خاتون سیکرٹری کو جنسی کھلونے خریدنے کا حکم دینے پر برطانوی وزیر سے تحقیقات شروع

لندن(ویب ڈیسک)برطانیہ کی کابینہ میں شامل ایک سینئر وزیر کی جانب سے اپنی خاتون سیکرٹری کو دو جنسی کھلونے خریدنے کا حکم دینے پر نیا تنازع سامنے آیا ہے، وزیراعظم تھریسا مے نے واقعے کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیر کی جانب سے جنسی کھلونے خرید کرنے کا حکم دینے کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا جب وزیراعظم تھریسا مے سیاست میں جنسی تشدد کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔اخبار ’دا میل‘ کے مطابق وزیر مملکت برائے عالمی تجارت مارک گیرنے پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی خاتون سیکرٹری کیرولائن اڈمونسن کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کے لیے دو جنسی کھلونے خرید کریں۔ یوں انہوں نے الفاظ میں خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ جنسی کھلونے خریدنے والی بات میں نے مزاح کے طور پر کی تھی۔

تاہم اڈمونڈسن نے وزیر مملکت کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔ ادھر وزیراعظم تھریسا مے کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنسی نوعیت کا کوئی بھی رویہ قابل قبول نہیں، ایسا کرنا قطعا نامناسب اور ناپسندیدہ ہے۔ اگر ایسی کوئی حرکت کوئی وزیر کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے‘۔ ایک دوسرے اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کا کلچر ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں