افغان حکومت نے 200 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا

کابل: (ویب ڈیسک) افغانستان میں حکومت نے لویہ جرگہ کی منظوری کے بعد خطرناک مقدمات میں اسیر مزید 200 طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جس کے جواب میں طالبان نے بھی سپیشل فورس کے 6 مغوی اہلکاروں کو آزاد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کی ہدایت پر سنگین مقدمات کا سامنا کرنے والے 400 طالبان جنگجوؤں میں سے مزید 200 کو آج رہا کردیا گیا۔ قبل ازیں 80 سے زائد قیدیوں کے ایک گروپ کو پہلے ہی رہا کیا جاچکا ہے۔

ان 200 جنگجوؤں کو کابل کی مرکزی جیل سے رہا کردیا گیا جس کے بدلے میں طالبان نے افغان سپیشل فورس کے 6 مغوی اہلکاروں کو آزاد کردیا تاہم ان اہلکاروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عبداللہ عبداللہ نے افغان مصالحتی کونسل ارکان کی نامزدگی مسترد کردی

کابل حکومت کی اہم شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہتے ہیں تاکہ جلد از جلد انٹرا افغان ٹاک کا آغاز کیا جا سکے۔

رواں برس 29 فروری کو افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت کابل حکومت کو 5 ہزار طالبان اسیروں کو رہا کرنا تھا جن میں سے 4 ہزار 600 کو رہا کردیا گیا تھا۔

کابل حکومت نے باقی ماندہ 400 قیدیوں کی رہائی سنگین مقدمات میں ملوث ہونے کی وجہ سے لویہ جرگہ کی منظوری سے مشروط کی تھی جو گزشتہ ماہ کے گرینڈ اجلاس میں منظور کرلی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں