پاکستان سے ناجائز دولت لے جا کر دبئی میں بنگلے اور بزنس قائم کرنے والے پاکستانی حکمران شاید اب اس کام سے باز آ جائیں گے کیونکہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ٹیکس کے نئے اور سخت ترین قوانین متعارف کروادئیے

ابوظہبی (ویب ڈیسک) پاکستان سے ناجائز دولت لے جا کر دبئی میں بنگلے اور بزنس قائم کرنے والے پاکستانی حکمران شاید اب اس کام سے باز آ جائیں گے کیونکہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ٹیکس کے نئے اور سخت ترین قوانین متعارف کروادئیے ہیں، جن کی موجودگی میں کسی بھی قسم کی جعلسازی کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زائد النہیان نے نئے ٹیکس قوانین کا اعلان کردیا ہے، جو کہ متحدہ عرب امارات کے ٹیکس نظام، ٹیکسوں کے نفاذ اور ٹیکس وصولی کے مضبوط نظام کی بنیاد بنیں گے۔ دبئی کے نائب امیر شیخ حمدان بن راشد المکتوم نے نئے ٹیکس نظام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’ٹیکس پروسیجرز لاء ایک نیا سنگ میل ہے جو کہ متحدہ عرب امارات کے ٹیکس نظام کو مضبوط کرے گا اور معیشت کو متنوع کرے گا۔ یہ ایک مکمل قانونی فریم ورک ہے جو متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ٹیکسوں کی بنیاد پر قابل تجدید اور متنوع معیشت کے قیام کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ ذرائع میں اضافہ حکومت کو ترقی کی رفتار برقرر رکھنے اور نئے افراسٹرکچر اور بہتر مستقبل کے حصول میں بھی مدد دے گا۔‘‘
نیا قانون ان مشترک ضوابط کو واضح طور پر بیان کرتا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات کے تمام ٹیکس قوانین پرلاگو ہوں گے، جن میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور ایکسائز ٹیکس قوانین بھی شامل ہیں اور اس میں FTAاور ٹیکس گزاروں کے حقوق و فرائض بھی واضح طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ یہ قانون ٹیکس ضوابط، آڈٹ، اعتراضات، ری فنڈ، ٹیکس کے حصول، ٹیکس رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرن کی تیاری، ٹیکس ریٹرن جمع کروانے، ادائیگی و دیگر امور کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
ٹیکس پروسیجرز لاء کے نفاذ کے بعد متحدہ عرب امارات میں تمام کاروباری اداروں کیلئے لازم ہوگا کہ وہ پانچ سال تک اپنا ریکارڈ مکمل اور درست حالت میں تیار رکھیں۔ ہر وہ شخص جس پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے اس پر لازم ہوگا کہ وہ ہر دورانیے کیلئے ٹیکس ریٹرن تیار کرے۔ اس ذمہ داری سے کسی کو چھوٹ نہیں ہو گی اور غفلت برتنے والوں کو سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں