مسلسل جدوجہد کرنا ہو گی، کوئی چھٹی نہیں: وزیراعظم کی اراکین اسمبلی کو ہدایت

لاہور: (سٹی نیوز) وزیراعظم عمران خان کا پارٹی اراکین اسمبلی کو کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے دوران کسی کو کوئی چھٹی نہیں ہے۔

رضا کاروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ نے آنے والے دنوں میں حلقے کی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران کوئی چھٹی نہیں ہے مسلسل جدوجہد کرنا ہوگی، اگرآپ نے لوگوں کی مشکل وقت میں مدد کر دی توآپ کامیاب ہوجائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اندازہ نہیں لگاسکتے کورونا وائرس کب ختم ہوگا۔ لوگ صرف ان کویاد کریں گے جومشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، مشکلات کا سامنا کرکے ہم مضبوط قوم بنیں گے۔

عمران خان نے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ حلقے کی عوام کے دکھ،درد میں شامل ہوں، آپ کے مخالف سوشل ورک کرہی نہیں سکتے، وہ صرف جائیدادیں بنانے آئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مال بنانے والے سماجی بہبود کا کام نہیں کرسکتے۔ سیاسی مخالفین تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔

دریں اثناء وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم کو کورونا وائرس کی روک تھام اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریف کیا، وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتظامات اور اقدامات کو سراہا۔


اس سے قبل گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، کورونا وائرس کے خلاف جنگ طویل ہو گی، مہلک وباء کسی کو نہیں چھوڑتی، لوگ سوشل میڈیا کی غلط باتوں پر نہ جائیں۔

عمران خان کاکہنا تھا کہ تقریب کے انعقاد پر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا بھی شکر گزار ہوں، مخیر حضرات کا بھی مشکور ہوں۔ مشکل وقت قوموں کا امتحان ہوتا ہے، پاکستان کے حالات توویسے ہی پہلے بہت برے حالات تھے۔ یہ قوم کا امتحان ہے۔ مشکل وقت میں صبرکرنے والے عظیم انسان بن جاتے ہیں۔ برا وقت اللہ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نظریہ اسلامی فلاحی ریاست ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس نظریے سے بہت دورچلےگئے۔ مدینہ کی ریاست پوری دنیا کے لیے ماڈل تھا۔ بدقسمتی سے ہم اسلام کوووٹ لینے کے لیےاستعمال کرتے ہیں، اللہ نے قرآن میں کہا کہ اپنے نبیؐ کی زندگی سے سیکھو۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2 ہزارارب ڈالرکا امریکا نے ریلیف پیکج دیا، امیرملکوں اورپاکستان کے معاشی حالات میں بڑا فرق ہے، معاشی طورپرمستحکم ملک بھی مشکل میں ہے۔ مشکل وقت میں ہم نے 8 ارب ڈالر کا پیکیج دیا ، میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مزید پیکیج دیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کی طرف سے کورونا وائرس عذاب ہے، اس سے بچنا ہے، کورونا سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ قوم جب اس چیلنج سے نکلے گی تو مختلف ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقے کا خیال رکھنا چیلنج ہے، دس کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس سے سفید پوش طبقہ بھی متاثر ہو گا، ہم نے تعمیراتی انڈسٹری کو کھول دیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تعمیراتی انڈسٹری کھلنے سے لوگوں کو روزگار ملے گا، روزانہ کی بنیاد صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران ٹائیگر فورس بنائی ہے اس وقت 6 لاکھ لوگ اس کے ممبر بن چکے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرکہا جا رہا یہ پاکستانیوں کوکچھ نہیں کہے گا۔ مہلک وباء کسی کونہیں چھوڑتی، سوشل میڈیا کی باتوں پرنہ جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈیٹا کی بنیاد پرلاک ڈاؤن کررہے ہیں، لاک ڈاؤن کا فائدہ تب ہوگا جب گھروں میں کھانا پہنچائیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، کورونا وائرس کے خلاف لمبی جنگ ہے، غلط فہمی میں نہ رہیں یہ کورونا وائرس پاکستان میں نہیں پھیلے گا،احتیاط کریں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ جو لوگ عطیہ کرنا چاہتے ہیں ہم انہیں بتائیں گے کہ یہ لوگ متاثرہ ہیں، ان کی مدد کریں۔ مخیرحضرات کا شکرگزارہوں، عثمان بزدار پنجاب میں اچھا کام کر رہے ہیں، پنجاب میں کام کرنے کے حوالے سے بڑی اچھی رپورٹ آرہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فیس بک پیج لانچ کررہے ہیں، حکومت کے پاس مستحق لوگوں کا ڈیٹا موجود ہے، سیاسی پارٹی سے وابستگی سے بالاتر ہو کرمستحقین کو پیسہ دیا جائے گا۔ ہمارے ایم این ایز،ایم پی ایزکا امتحان ہے، مشکل وقت میں خدمت کریں، بدقسمتی سے سیاست بدنام عوام کی بجائے ذات کے لیے کام کرنے سے ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں