اس پاکستانی کو برطانیہ سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو 17000 لوگ احتجاج کرنے لگے، یہ کون ہے اور لوگ احتجاج کیوں کررہے ہیں؟ جواب کوئی پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتا

لندن(ویب دیسک) بیرون ممالک سے پاکستانیوں کے متعلق اکثر مایوس کن خبریں ہی آتی ہیں لیکن اب برطانیہ سے ایک پاکستانی کے بارے میں ایسی خبر آ گئی ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ خبر پاکستانی ڈاکٹر سید کاظمی کے متعلق ہے جو 9سال قبل برطانیہ منتقل ہوئے اور نیشنل ہیلتھ سروسز میں بطور ڈاکٹر نوکری شروع کر دی۔ اب ٹیکس کے ایشو پر برطانوی حکام نے انہیں مزید ویزا دینے کی بجائے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن جیسے ہی انتظامیہ کا یہ فیصلہ منظرعام پر آیا17ہزار سے زائد برطانوی شہری سڑکوں پر نکل آئے اوراس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔

اڑتیس سالہ ڈاکٹر سید کاظمی برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھی ڈاکٹروں، نرسز اور ان کے مریضوں کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر کاظمی انتہائی محنتی اور لگن کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹر ہیں۔ وہ اپنی ڈیوٹی سے زائد وقت کام پر رہتے ہیں اور مریضوں کی مدد میں ہر حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔“ڈاکٹر کاظمی کے انہی خواص کے باعث آج ان کے مریض اور ساتھی ورکرز ان کو ڈی پورٹ کیے جانے کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔اس فیصلے پر ڈاکٹر کاظمی کا کہنا ہے کہ ”میں 9سال سے برطانیہ میں ہوں اور میں نے ہر قانون کا اتباع کیا ہے۔ میں باقاعدگی سے ٹیکس دیتا رہا ہوں اور اس معاشرے میں ہر ممکن مثبت شراکت داری کو یقینی بنایا ہے۔میری کام سے لگن اور ہرقانون کی پاسداری ہوم آفس کو مطمئن نہیں کر سکی لیکن ایک واقعے نے مجھے ان کی نظروں میں ناقابل اعتبار شخص بنا دیا ہے، جس میں میری کوئی غلطی بھی نہیں۔“ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کاظمی کے حامیوں نے انٹرنیٹ پر ان کے حق میں ایک پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے جس پر اب تک 14ہزار سے زائد لوگ دستخط کر چکے ہیں۔اس پٹیشن پر دستخط کرنے والے شخص رابرٹ ڈائسن کا کہنا ہے کہ ” محکمہ داخلہ کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم اس شخص کو100فیصد برطانیہ میں رکھنا چاہتے ہیں۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں