آرمی ایکٹ ترمیم بل بدھ تک موخر ہو گیا: ن لیگی قیادت کا ارکان اسمبلی کو خط

اسلام آباد: (سٹی نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے اپنے ارکان اسمبلی کے نام ایک خط لکھا گیا ہے، خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیم بل بدھ تک موخر ہو گیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کے حوالے سے دیئے گئے فیصلے کے بعد حکومت نے آرمی ایکٹ کے ترمیم بل کے اجلاس کو پیر تک ملتوی کر دیا۔

حکومت پر امید ہے کہ آئندہ ہونے والے اجلاس میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور دونوں ایوانوں میں بل اپوزیشن کی مشاورت کے ساتھ منظور کر لیا جائے گا۔

اب مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے اپنے ارکان اسمبلی کے نام خط سامنے آیا ہے، خط مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور سینئر لیگی رہنما خواجہ آصف کی جانب سے لکھا گیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق معزز ممبران کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل بدھ تک موخر ہو گیا ہے، ایوان کی منظوری سے پہلے سینیٹ و قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے پاس ہو گا، ن لیگ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا گیا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اجلاس پارلیمنٹ ہاوس کی کمیٹی نمبر 2 میں صبح 10 بجے ہوگا، ن لیگی قیادت نے پیر سے سیشن کے اختتام تک ایوان میں حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی دفاع نے مسلح افواج کے قوانین میں ترامیم سے متعلق تینوں بل منظور کرلیے۔ تینوں بلزکی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں منظوری دی گئی۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر قانون فروغ نسیم، مشاہد حسین سید، شیری رحمان و دیگر شریک ہوئے۔ اجلاس میں آرمی ایکٹ، نیول ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بلزپرغورکیا گیا۔

اس سے قبل اسپیکراسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔

بعد ازاں وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ 1952ء میں مزید ترمیم کا بل 2020، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترمیم کے بل ایوان میں پیش کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں