عوامی رابطہ مہم شیڈول جاری ، عمران خان کا اگلاالیکشن کراچی سے لڑنے کا اعلان

کراچی،اسلام آباد(ویب ڈیسک)بلاول زرداری بھٹو نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو کراچی سے الیکشن لڑنے کا چیلنج کیا تھا جسے عمران خان نے قبول کرلیا اور کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کراچی شہر سے پورے ملک کا نظام چلتا تھا اور کراچی وہ شہرتھا جہاں لوگ چھٹیاں منانے آتے تھے لیکن کراچی کے ساتھ گزشتہ دور میں زیادتی کی گئی۔
عمران خان نے 2018 کا الیکشن کراچی سے لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں اور چاہتا ہوں کہ کراچی وہ شہر بنے جہاں دنیا سے لوگ نوکری کرنے آئیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ لیڈر محبت بانٹتا ہے،نفرت نہیں اور کراچی کو تقسیم اور لڑائی سے سب سیزیادہ نقصان ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو تقسیم سے سب سے زیادہ نقصان ہوا، کراچی کے لوگوں کوتقسیم کیاگیا لیکن ہم نے کراچی کے لوگوں کو ایک کیا۔عمران خان نے لاہورکو دنیا کا سب سے آلودہ شہر قراردیتے ہوئے کہاہے کہ لاہور کے70 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے، پاکستان میں امیر اور غریب میں فرق بڑھتا جارہا ہے،پاکستان میں صرف کچھ لوگوں کے لیے ہی سہولتیں موجود ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی پہلی کوشش ہوگی کہ غربت کم ہو، حکومت ختم ہونے میں تین ماہ رہ گئے ہیں، اس لیے حکومت کے پاس پی آئی اے کی نجکاری کا اختیار نہیں ہے،شریفوں کی سٹیل مل نفع کما رہی ہے اور پاکستان سٹیل مل بند پڑی ہے،ایمانداری سے ادارے چلائے جائیں تونجکاری کی ضرورت نہیں ہوتی، اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی، ملک میں اداروں کی تباہی کا سبب کرپشن ہے،جب تک کراچی میں پولیس ٹھیک نہیں ہوگی لا اینڈ آرڈر ٹھیک نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ کراچی میں سارا مسئلہ لوکل گورنمنٹ کا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کراچی ایئرپورٹ پر کارکنان اور مقامی ہوٹل میں ڈاکٹرزفورم کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ نجکاری سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے،ملک کی اسٹیل مل بند پڑی ہے جبکہ شریفوں کی جدہ میں اسٹیل ملز اربوں کماتی ہے۔قومی اثاثوں کو بیچا نہیں جاتا۔عمران خان نے کہا ہے کہ ایک عام آدمی کیلئے کینسر کا علاج کروانا بے حد مشکل ہوجاتا ہے جب ریاست بھی عام شہری کی ذمہ داری اُٹھانے کو تیار نہ ہو۔ انہوں نے آئی ڈی ایف کے ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں تحریک انصاف کا ڈاکٹرز کے حوالے سے فلسفہ بتانا چاہتا ہوں۔ ہم پاکستان میں انسانیت کا نظام چلانا چاہتے تھے۔ میں اور میری بہنیں میو اسپتال میں پیدا ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ سرکاری اسپتالوں کا نظام بدلنے لگا۔ جس کے پاس پیسہ آتا گیا، اس کو تمام سہولیات ملتی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جب میری والدہ کو کینسر ہوا تو میں نے کرکٹ جوائن کی۔ اس وقت اندازہ ہوا کہ کینسر کا علاج کتنا مشکل ہے۔ جب ریاست بھی عام شہری کی ذمہ داری اُٹھانے کو تیار نہ ہو تو عام آدمی کینسر کا علاج کیسے کروائے؟۔ بیچ لگژری ہوٹل میں انصاف ڈاکٹرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر شوکت خانم اسپتال نہ بناتا تو سیاست میں نہ آتا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن 2018 ء کی مہم گرمانے کیلئے ملک بھر میں رابطہ مہم کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں جلسوں کے شیڈول کا اعلان کردیا شیڈول کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 9مارچ کو شخوپورہ ننکانہ 11مارچ کو فیصل آباد 13مارچ کو گجرات 14مارچ کو جہلم چکوال 17 اور 30مارچ کو لاہور 15مارچ کو ملتان 16مارچ کو گوجرانوالہ 19اور20 کو کراچی جبکہ 29مارچ کو لاہور منصورہ میں جلسہ سے خطاب کریں گے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وزیراعلی پرویز خٹک کو فون کیا ہے اور سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے عمران خان کو پارٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے بھی آگاہ کر دیا جس کے مطابق 20 ارکان صوبائی اسمبلی نے وفاداریاں تبدیل کیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سے ووٹ فروخت کرنے والے اراکین کی فہرست طلب کی تھی جس پر وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک نے پارٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے عمران خان کو آگاہ کر دیا ۔ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے 17 سے 20 اراکین اسمبلی نے اپنی وفاداریاں تبدیل کی ہیں جس میں بیشتر تعداد خواتین کی ہے وفاداریاں تبدیل کرنے والے ناراض ارکان ہیں جو پہلے سے فارورڈ بلاک میں تھے اور انہوں نے دیگر اہم صوبائی ارکان اسمبلی کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا جنہوں نے مخالف ارکان کو سپورٹ کیا اور ہارس ٹریڈنگ کے مرتکب ہوئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں