آصف زرداری نے نوازشریف پر اب تک کا سب سے خطرناک وار کردیا، کون شخص زرداری سے ملنے جارہا ہے؟ جان کر نوازشریف کی پریشانی کی انتہاء نہ رہے گی

اسلام آباد (ویب ڈیسک )سینیٹ کے الیکشنز کے بعد اب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے دوڑ شروع ہوگئی ہے ، ایسے میں پیپلزپارٹی اور جے آئی یو کی قیادت کی ملاقات طے پاگئی ہے جبکہ مولانافضل الرحمان سے ملاقات کیلئے مسلم لیگ ن نے بھی بھاگ دوڑ شروع کردی ہے اور چیئرمین شپ کیلئے مولانافضل الرحمان کی جماعت اہمیت اختیار کرگئی ہے لیکن مسلم لیگ ن سے پہلے ان کی ملاقات زرداری سے طے پاگئی ہے ۔
مقامی میڈیا کے مطابق مولانافضل الرحمان سے آصف زرداری کے دست راست ڈاکٹرقیوم سومرونے مقامی ہوٹل میں ملاقات کی جس دوران چیئرمین سینیٹ اورڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پرمشاورت کی گئی ۔ اس دوران قیوم سومرو نے آصف علی زرداری کی طرف سے ملاقات کی دعوت دی جسے مولانافضل الرحمان نے قبول کرلیا اور پیر کی شام 7بجے اسلام آباد میں دونوں کی ملاقات طے پاگئی ہے ۔
یادرہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف وفاق میں مسلم لیگ ن کی اتحادی ہے اور سینٹ کی قیادت سنبھالنے کے لیے مجموعی طورپر 53ووٹوں کی ضرورت ہے ، حالیہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کو اپنے سینیٹرز کے علاوہ 20جبکہ پیپلزپارٹی کو 33ووٹوں کی ضرورت ہے ۔ مسلم لیگ ن کے اتحادیوں میں جے یوایف کے چار، پختونخواہ ملی عوامی اور نیشنل پارٹی کے پانچ پانچ اور مسلم لیگ فنکشنل کا ایک رکن شامل ہے ، ایسے میں مسلم لیگ ن کے اپنے 33سینیٹر ملا کر مجموعی طورپر 48بنتے ہیں جبکہ بلوچستان سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونیوالے دو امیدواروں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا جس کے بعد مسلم لیگ ن کے مجموعی ووٹوں کی تعداد50ہوگئی لیکن اگر جے آئی یو نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دے دیا تو ن لیگ کیلئے مزید مشکلات کھڑی ہوجائیں گی کیونکہ اطلاع ہے کہ پیپلزپارٹی نے ڈپٹی چیئرمین شپ جے یوآئی ایف کے سپرد کرنے کی پیشکش کردی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں