پانامہ کیس کے بعد ن لیگ نے عدالتوں کو ماننا چھوڑ دیا

لاہور (ویب ڈیسک)عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے کہا ہے کہ غریب اور پسماندہ علاقے سے ہونے کے باعث ظلم ہو رہا ہے ، میں نے پانی نہیں کھولا ،ان کو غصہ بجٹ پر میرے احتجاج پرتھا ، مجھ پر ہاتھ ڈال کر دوسروں کو پیغام دیا گیا ،ن لیگ مجھے پولیس مقابلے میں مارنا چاہتی تھی، جیل سے ہاتھوں میں ہتھ کڑی ، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر سرگودھا جیل منتقل کیا ، میرے خلاف جعلی مقدمات بنا کر مجھے ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے بعد ن لیگ نے عدالتوں کو ماننا چھوڑ دیا ہے ، عمران ، شیخ رشید ، طاہر القادری سب تقاریر کر رہے ہیں لیکن حکومت صرف مجھ غریب کو ہی عبرت کا نشان بنا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ مجھے سزائے موت کے قیدیوں کی 4نمبر چکی میں رکھ کر بڑے بلب لگا کر ذہنی اذیت دی گئی ، جیل میں بچھو ، چوہے چھوڑے ، 6روزے پانی سے رکھے ہیں اور میرا 13کلو وزن کم ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ رات 2بجے ہوم سیکرٹری اٹھتا ہے ، ایڈیشنل سیکر ٹری کو میری جیل تبدیلی کے احکامات جار ی کر نا یاد آ جاتا ہے یہ صر ف مجھے گو نواز گو کے نعرے ، نواز شریف کے سامنے احتجاج کرنے اور جوائنٹ سیشن میں ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے پر سزا دی گئے ہے لیکن مجھے اللہ نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کے از خود نوٹس کے ذریعے دوبارہ زندگی دی ہے ن لیگ تو مجھے پولیس مقابلے میں مروانا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ رات کو 2بجے غیر قانونی طور پر ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کیا گیا اور جیل سے غیرقانونی طورپرگرفتارکرکے جج کیسامنے پیش کیاگیامجھے گرفتاری کے بعد اگلے روز 2بجے سیشن جج کے سامنے پیش کیا گیا ، ڈسٹرکٹ جج مظفر گڑھ تحقیقات کر رہے ہیں اگر قصور وار ہوا تو مجھے چوک میں پھانسی دے دی جائے میں اپنی گرفتار ی پر سیاست نہیں کر رہا لیکن ن لیگ اپنے ماضی سے کچھ نہیں سیکھ سکی اور صرف غریبوں کو روند ڈالنے پر تلی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ 28 جون کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرمجھے سرگودھا منتقل کیا گیا اور مجھے پر ایک تقریر کرنے پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ دوسری طرف طاقتور اور ملک کے خلاف نعرے لگانے والوں کے خلاف تو کو ئی دفعات نہیں لگائی جا سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں