فرشتوں کے ساتھ جنت کی سیر کے دعوے کرنے والے مریدنے جب لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا تو کیا دیکھا؟ تصوف کی راہ پر چلنے والوں کے لئے انتہائی اہم بات جو سچ اور جھوٹ کا فرق واضح کردیتی ہے

تصوف کی راہ پر چلنے والے بعض ناعاقبت اندیش اپنے مشاہدات کو حق سمجھ کر شیطان کے بہکاوے میں آجاتے اور خود کو اعلیٰ اور صاحب مقام سمجھ کر گمراہی پھیلاتے ہیں۔اسی لئے صاحبان سلوک کو ہدایت کی جاتی ہے کہ شریعت پر عمل پیرا اپنے مرشد کی ہدایت پر تربیت کے مراحل طے کریں تاکہ خوارقات وکرامات کے چکر میں کہیں بہک نہ جائیں کیونکہ اس راہ پر شیطان اپنی دنیا مرصع کرکے بیٹھا ہوتا ہے۔تذکرۃ اولیا میں لکھا ہے کہ بہت سے مریدین منزل سلوک پر پہنچنے کی کوشش میں تکبر و امارت کا شکار ہوجاتے ہیں۔وہ کود کو اپنے مرشد پر بالا سمجھنے لگتے ہیں ۔
حضرت جنید بغدادی ؒ کا ایک ناقص مرید اپنی حماقت سے یہ سمجھ بیٹھا کہ میں کامل ہو گیا ہوں۔ اب مجھے صحبت شیخ کی احتیاط نہیں۔ اسی خیال خام کو دل میں طے کر کے اس نے حضرت جنیدؒ کی صحبت ترک کر دی اور تنہاذکرو فکر میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑے ہی روز بعد وہ ہر شب دیکھنے لگا کہ فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں اور اسے اونٹ پر سوار کر کے عالم بالا کو لے جاتے ہیں اور ریاض کے گلستان کی سیر کراتے ہیں۔
ایک دفعہ اس نے اپنے بعض مخلص احباب سے ذکر کیا کہ میں بارگاہ رب العزت میں اس درجہ رفیعہ پر پہنچا ہوں کہ ملائکہ میری خدمت پر مامور ہیں اور شب سوار کر کے مجھے گلستان بہشت کی سیر کراتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ خبر حضرت جنیدؒ کی سمع مبارک تک پہنچی۔ آپؒ خوداس مرید کے پاس تشریف لے گئے اور اس کی زبان سے عروج کی کیفیت سن کر کہا ’’آج رات کو جب جنت میں پہنچو تو ذرا لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھ دینا ‘‘ اس نے ایسا ہی کیا۔ ناگاہ کیا دیکھتا ہے ’’ تما م شیاطین بھاگ رہے ہیں۔ وہ گھوڑے پر سوار ہے اور مردوں کی ہڈیا ں سامنے پڑی ہیں ‘‘ یہ شخص چونکا ،اپنی کوتاہی و گمراہی سے توبہ کر کے حضرت جنیدؒ کے کاشانہ زہد پر ہوا کہ جب تک مرید درجہ کمال تک نہ پہنچ جائے اس کا شیاطین کی دست برد سے محفوظ رہنا محال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں