ایک عام آدمی سردیوں میں کتنے لوگوں کو زکام لگاتا ہے؟ جانئے اور احتیاط کیجئے

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) سردی کا موسم ہے اور ہر کوئی چھینکیں مارتا نظر آرہا ہے۔ زکام وباءکی طرح پھیل رہا ہے اور ایسے میں جب بھی کوئی آپ کے قریب چھینک مارتا ہے تو آپ سوچتے ہیں کہ لو بھئی یہ مجھے بھی بیمار کرے گا۔ زکام کے بارے میں یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ یہ ایک شخص سے دوسرے تک پہنچ سکتا ہے، لیکن ایک متاثرہ شخص تقریباً کتنے اور لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے؟ ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق جب زکام سے متاثرہ شخص چھینکتا یا کھانستا ہے تو اس کے قریب جتنے لوگوں کے متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے ان کی تعداد کو بیسک ری پروڈکشن نمبر (آراو) کہا جاتا ہے۔ عام زکام سے متاثرہ شخص کئی طرح کے وائرس پھیلاتا ہے لیکن عموماً ان میں سے ’رائنو وائرسز‘ ایسے ہوتے ہیں جو دیگر افراد میں بیماری منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ بیسک ری پروڈکشن نمبر کا انحصار بہت سی باتوں پر ہوتا ہے لیکن اوسط تعداد کی بات کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ زکام سے متاثرہ ایک شخص تقریباً نصف درجن دیگر لوگوں کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں