مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر

بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد لائحہ عمل کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ارکان اسمبلی سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر نے اجلاس میں بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور کلسٹر بموں کے استعمال پر بحث کے لیے تحریک پیش کی تاہم تحریک میں آرٹیکل 370 کے بنیادی معاملے کو شامل نہ کرنے پراپوزیشن نے شدید احتجاج جس کے بعد اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی ترمیمی تحریک پیش کی۔
اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کرلی گئی اور اسپیکر نے بحث کے آغاز کے لئے شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث مشترکہ اجلاس کو مزید کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

مشترکہ اجلاس کا ماحول بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے اسپیکرکی موجودگی میں مذاکرات ہوئے جس میں اپوزیشن کی جانب سے خورشید شاہ، نوید قمر، شازیہ مری اور ایاز صادق نے شرکت کی جب کہ حکومت کی جانب سے شفقت محمود، شیریں مزاری اور عامر ڈوگر شامل ہوئے تاہم حکومتی وفد اپوزیشن کو راضی نہ کرسکا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سمیت غیر حاضر ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیےجائیں، ایم این اے اور وزیراعظم عمران خان کو جوائنٹ سیشن میں طلب کریں، ایوان کے تمام ارکان کو جوائنٹ سیشن میں آناچاہیے۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں