خادم رضوی جیسے بھی ہیں, انہیں دہشتگرد نہیں کہا جاسکتا: بیرسٹرظفراللہ

اسلام آباد، کراچی(ویب ڈیسک)وزیر قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا ہے کہ خادم رضوی جیسا بھی ہے اسے دہشتگرد نہیں کہا جاسکتا،اپنے نظریات میں شدت رکھنایادھرنادینادہشتگردی میں نہیں آتا،فیض آباد دھرنے میں مسلح لوگ موجود تھے۔

نجی نیوز چینل کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان حلقہ بندی بل کی منظوری کیلئے قبل از وقت انتخابات کی تجویز زیرغور نہیں ، ،پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بل پیش کیے جانے تک ہمارے ساتھ تھی لیکن پتا نہیں کیوں سینیٹ میں انکاری ہوگئی،نئی حلقہ بندیوں کیلئے بل کا ڈرافٹ پیپلز پارٹی کے مشورے سے بنایا گیا تھا، پیپلز پارٹی نے بل پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے ترامیم تجویز کیں جو حکومت نے مان لی تھیں۔بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کا بل نومبر تک منظور ہوجانا ضروری تھا، بل آئندہ چند روز میں بھی منظور ہوجائے تو گنجائش ہے ، بل منظور نہیں ہوا تو قانونی مسائل شروع ہوجائیں گے، ن لیگ پنجاب میں نو نشستیں کم ہونے کے باوجود نئی مردم شماری پر حلقہ بندیوں کیلئے تیار ہے،اگر الیکشن پرانی مردم شماری پر ہوئے تو عدالت میں چیلنج ہوجائیں گے۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ 1991ءکی مردم شماری میں سندھ حکومت نے آبادی بڑھانے کیلئے کہالیکن ہم نے نہیں کرنے دی، اس وقت نوشہرو فیروز میں 529فیصد آبادی بڑھی جو مشکوک تھی، حالیہ مردم شماری میں غلطی صوبائی حکومت نے کی ہے، مردم شماری کا سوفیصد عملہ سندھ حکومت کا دیا ہوا تھاجبکہ پورے عمل کی نگرانی اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنرز کررہے تھے۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ صوبوں نے بہت سے لوگوں کے نام دیکھے بغیر فورتھ شیڈول میں ڈالے ہوئے ہیں،فورتھ شیڈول کی فہرستوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے،،پنجاب حکومت نے علماءکے بارے میں فرق نہیں کیا،خادم رضوی جیسا بھی ہے اسے دہشتگرد نہیں کہا جاسکتا ، خادم رضوی فورتھ شیڈول کی کیٹگری میں نہیں آتے،اپنے نظریات میں شدت رکھنا یا دھرنا دینا دہشتگردی میں نہیں آتا، فیض آباد دھرنے میں مسلح لوگ موجود تھے اس کی ویڈیو موجود ہے، دھرنے میں راستے بند کرنا اور شہریوں و پولیس اہلکاروں کو مارنا غلط تھا اس پر مقدمات ہونے چاہئیں۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ مجھے دکھ ہے پیپلز پارٹی ضائع ہورہی ہے،پیپلز پارٹی کو خود کو پی ٹی آئی سے ڈی لنک کرنا چاہئے، پیپلز پارٹی اگر پی ٹی آئی کی زبان استعمال کرے گی تو لوگ انہیں بھی چھوڑ دیں گے۔تاج حیدر نے کہا کہ عمران خان کے پاس قبل از وقت انتخابات مطالبہ کی وجہ نہیں ہوتی ہے، آصف زرداری کی عبوری حکومت تک ن لیگ کو نہ چلنے دینے کی بات کا پس منظر ہے، آصف زرداری نے ساتھ یہ بھی کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ووٹ سے ہوگا، الیکشن سال میں حکومت مزید قرضے اور اخراجات بڑھارہی ہے اس کا بوجھ کون سنبھالے گا، حکومت کے پاس ملک کے معاشی مسائل کا حل نہیں ہے، ڈالر کی بڑھتی قدر کے باعث برآمدات پر بہت دباﺅ ہے، پیپلز پارٹی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں، وزیراعظم کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آپشن ہے تاکہ آئندہ حکومت کو وقت مل سکے۔تاج حیدر کا کہنا تھا کہ حالیہ مردم شماری غلط اور غیر شفاف طریقے پر کی گئی ہے، پانچ بلاکس کے سروے کیلئے صحیح طریقہ کار نہیں سامنے آرہا ہے، دوسرے صوبو ں میں بسنے والے شہریوں کو ان کے موجودہ پتوں کے بجائے آبائی صوبوں کی آباد ی میں شامل کیا گیا،سندھ میں دوسرے صوبوں سے آنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں اس لئے صوبہ کی آبادی میں بڑی کمی واقع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں