پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ، کوئی ایک بھی جاندار نہیں بچے گا اگر۔۔۔ پاکستانیوں کے لئے سب سے خطرناک خبر آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کرہ ارض کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہر ملک کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس بات کاتذکرہ کم ہی سننے کو ملتا ہے۔ ہماری یہ لاعلمی اور بے فکری اپنی جگہ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ ہماری جانب نہیں بڑھ رہا۔
ایک تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں صدی کے اختتام تک پاکستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا نتیجہ پانی کے بدترین بحران، پن بجلی میں غیر معمولی کمی اور گندم و چاول جیسی فصلوں کی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث جنم لینے والی حرارت کی لہر کی وجہ سے بھی بہت سی اموات ہوسکتی ہیں۔
یہ تشویشناک انکشافات ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ ’کلائمیٹ چینج پروفائل آف پاکستان‘ میں کئے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی ماہر قمر زمان چودھری نے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے ۔ گزشتہ 30 سال کے دوران ہیٹ ویو کے سالانہ دورانیے میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ ایک صدی کے دوران کراچی کے ساحل پر سطح سمندر میں تقریباً 10 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اگر درجہ حرارت میں تیزی کے ساتھ اضافہ جاری رہا تو خدشہ ہے کہ رواں صدی کے اختتام تک سطح سمندر میں اضافہ 60 سینٹی میٹر تک ہوچکا ہوگا اور کراچی کے جنوب میں کیٹی بندر اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی جانب کے علاقے زیر آب آجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں