”یہ مجھے مارتا ہے اور کراچی کی لڑکی علیشبا کیساتھ باتیں کرتا ہے“ بھارتی کرکٹ ٹیم کے نامور کھلاڑی کی بیوی پھٹ پڑی، تہلکہ خیز الزامات نے بھارت اور پاکستان میں ہنگامہ برپا کر دیا، یہ کون سا کھلاڑی ہے؟ سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی کرکٹ ٹیم کے معروف کھلاڑی محمد شامی کی اہلیہ حسین جہان نے اپنے شوہر پر تہلکہ خیز الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد شامی نے مختلف لڑکیوں کیساتھ تعلقات بنا رکھے ہیں جن میں کراچی کی ایک لڑکی علیشبا بھی شامل ہے جبکہ دو سال سے مجھے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بناتا چلا آ رہا ہے۔
حسین جہان نے محمد شامی کی مختلف لڑکیوں کیساتھ واٹس ایپ پر ہونے والی مبینہ گفتگو کے سکرین شاٹس بھی سوشل میڈیا پر شیئر کئے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ لڑکیوں کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی حسین جہان کا کہنا ہے کہ ”میں نے جو کچھ بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے وہ سب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کے کئی لڑکیوں کیساتھ تعلقات ہیں۔“
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد شامی کی اہلیہ کو جب اس کا فون ملا تو وہ لاک تھا لیکن متعدد بار کوشش کے بعد وہ اسے کھولنے میں کامیاب ہو گئیں اور پھر واٹس ایپ اور دیگر ایپلی کیشنز پر ہونے والی گفتگو تک بھی جا پہنچیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ”اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ فون 2014ءمیں دہلی ڈئیرڈیلوز کی طرف سے اسے تحفے میں ملا تھا، لیکن وہ ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے۔“ حسین جہان نے محمد شامی کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ محمد شامی اور اس کے گھر والے گزشتہ دو سال سے اسے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ کئی مرتبہ تو جان سے مارنے کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔
حسین جہان نے بھارتی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”فیملی کا ہر شخص مجھ پر تشدد کرتا ہے۔ اس کی ماں اور بھائی گالیاں دیتے ہیں اور تشدد صبح کے 2 سے 3 بجے تک جاری رہتا تھا۔ وہ تو مجھے مارنا ہی چاہتے تھے۔“
محمد شامی آخری مرتبہ جنوری میں جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کیلئے بھارتی ٹیم کیساتھ گئے تھے تاہم ون ڈے اور ٹی 20 ٹیم میں شامل نہ ہونے پر واپس بھارت آ چکے ہیں اور اس وقت دھرم شالا میں دیودھار ٹرافی کھیلنے میں مصروف ہیں جن کی جانب سے تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
حسین جہان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ محمد شامی نے جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے بعد واپس آ کر بھی اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ”شامی نے مجھے گالیاں دیں اور مجھے مارنا شروع کر دیا، وہ یہ سب کچھ بہت عرصے سے کر رہا ہے لیکن اب میں نے بہت برداشت کر لیا۔
میں نے اپنی فیملی اور بیٹی کی خاطر خود کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ مجھے ہراساں کرتا رہا اور جب مجھے اس کے کرتوتوں کا پتہ چلا تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ میں یہ سب کچھ مزید برداشت نہیں کر سکتی اور میں نے شامی کے خلاف تمام ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔“
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”میں نے اسے اپنی غلطی سدھارنے کا موقع فراہم کیا لیکن اس نے اپنی تسلیم کرنے کے بجائے مجھ پر اپنا غصہ نکالنا شروع کر دیا اور مجھے دھمکیاں بھی دیں، کہ میں اپنی خیرخواہی کیلئے ہی اپنا منہ بند رکھوں۔“
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اس بارے میں پولیس میں شکایت کیوں درج نہیں کروائی تو انہوں نے کہا کہ جنوری کے مہینے میں جب شامی کے گھر والوں کا تشدد بہت بڑھ گیا تو میں نے پولیس سے رابطہ کیا۔
ان کا کہنا تھا ”میں 8 جنوری کو اترپردیش سے واپس کلکتہ آ گئی۔ اس وقت میں کوئی قانونی کارروائی نہیں چاہتی تھی لیکن جادو پور پولیس سٹیشن میں زبانی شکایت کی تھی۔ شامی کہتا تھا اپنی زندگی تباہ نہ کرو۔ اپنی بھلائی کیلئے، اسی طرح اپنی زندگی گزارتی رہو، جیسے گزار رہی ہو۔ اس کے گھر والوں نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش بھی کی۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں