نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے میں اسود عنسی پہلا مردود تھا جس نے مسلمانوں کو گمراہ کیا

لاہور ویب ڈیسک) نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے میں اسود عنسی پہلا مردود تھا جس نے مسلمانوں کو گمراہ کیا لیکن اللہ نے اپنے نبیﷺ ختم المرسلین کو عین اس وقت وحی کے ذریعہ سے اسود عنسی کے فتنہ کے سدباب سے آگاہ فرمادیا جب آپﷺ کے وصال میں ایک دن اور رات کا وقفہ باقی تھا۔سرکار دوعالم ﷺ نے اس بارے میں صحابہ کرام کو اطلاع دی کہ اس فتنہ کا سدباب ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ وصال سے قبل سرکار دوعالم ﷺ نے ایک خواب دیکھا کہ آپ ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں کنگن ہیں۔ آپﷺ کو اس سے نفرت سی محسوس ہوئی۔ آپ نے ان پر پھونک ماری جس سے وہ دونوں اڑ گئے۔اس کی تعبیر آپ نے یہ بتائی کہ ان کنگنوں سے یہ دونوں جھوٹے مدعیان نبوت ( اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ) مراد ہیں اور دونوں عنقریب میرے ہی جانثاروں کے ہاتھوں انجام بد تک پہنچیں گے (الحمد اللہ۔ یہ پیشن گوئی اسی طرح حرف بہ حرف صادق ہو ئی)۔
اسود عنسی نے یمن کے علاقہ کہف حنان میں سات سو جنگوو ں کے ساتھ نبوت کا دعوی کیاا ور اپنی حکومت قائم کرلی۔وہ بہت بڑا شعبدہ باز اور کہانت کا ماہر تھا۔ اس کا لقب ذوالحمار ( گدھے والا ) بھی معروف تھا کیونکہ اس کے پاس ایک سدھایاہوا گدھا تھا۔ یہ جب اس کو کہتا کہ خدا کو سجدہ کرو تو وہ سجدہ کرتا، بیٹھنے کو کہتا تو وہ بیٹھ جاتا ، کھڑے ہونے کو کہتا تو کھڑا ہوجا تا۔ اس شعبدے بازی کی وجہ سے وہ لوگوں کو بے وقوف بناتا تھا کہ دیکھو ! ایک بے زبان جانوربھی میری تابعداری کرتا ہے۔ اسی شعبدہ بازی کی وجہ سے لوگ اس سے متاثر ہوئے اور اس کو بہت جلد کامیابی حاصل ہوئی۔اس نے فساد برپا کیا اور آگے بڑھ کر اس نے صنعا پر قبضہ کرلیا۔اسکا فتنہ زور پکڑ گیا اور ارتداد کی لہر تیز ہوئی تو مسلمان اشعرپین کے علاقے میں سمٹ آئے۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس مرحلہ پر مسلمانوں نے مصلحت سے کام لیا۔ تین چار مہینے گزرے تو رسول اللہﷺ کے جانثار صحابی حضرت فیروز دیلمی نے اسود عنسی کے قتل کا ارادہ کیا اور اسکے قلعہ میں گھس گئے۔اور موقع پاتے ہی اس گستاخ کا سرکاٹ کر قلعہ سے نیچے پھینک دیا تویہ دیکھ کر اسکے ساتھی بھاگ گئے اور مسلمان غالب آگئے۔۔حضرت فیروز دیلم شاہ حبشہ کے بھانجے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اشاعت دین کے لئے بے پناہ خدمات انجام دیں۔آپ نے اس فتنہ کی سرکوبی کے بعد رسول خداﷺکو خط کے ذریعہ اطلاع دی لیکن اس دوران آپ کا وصال ہوچکا تھا اور یہ خط حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں پہنچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں