پاکستان میں سرکاری عہدہ سنبھالنے سے قبل شوکت عزیز بحیثیت بینکار 30 سال سے سٹی بینک سے وابستہ تھے،وارین وٹاکر

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے وکیل وارین وٹاکر نے پیراڈائز پیپرز کے حوالے سے اپنے موکل کی طرف سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سرکاری عہدہ سنبھالنے سے قبل شوکت عزیز بحیثیت بینکار 30 سال سے سٹی بینک سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اسی عرصہ کے دوران اپنی رقوم جمع کیں۔انہوں نے اپنے تمام تر ٹیکس ادا کیے اور آمدنی اور بچت کے حوالے سے تمام معلومات ظاہر کیں۔

وارین وٹاکر کے مطابق، ان کے موکل نے پاکستان میں بحیثیت وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل اپنے اہل خانہ کے فائدے کیلئے ایسٹیٹ پلاننگ کی تھی۔ انہوں نے اپنے تمام تر اثاثے امریکا میں ایک ناقابل تنسیخ ٹرسٹ میں جمع کرائے تاکہ ان کی اہلیہ اور بچوں کا فائدہ ہو سکے اور اس طرح وہ اپنے اثاثوں کے مالک نہ رہے۔ یہ وہ معیاری اور قانونی طریقہ کار ہے جو امریکا میں ایگزیکٹوز معمول کے مطابق اختیار کرتے ہیں۔پاکستانی حکومت کا حصہ بننے کے بعد شوکت عزیز نے اس ٹرسٹ میں کوئی فنڈز شامل نہیں کیے، پاکستان کو اپنی خدمات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کسی طرح کا کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا۔ وکیل کے مطابق، شوکت عزیز نے ہمیشہ اعلیٰ اخلاقی معیارات پر عمل کیا ہے، انہوں نے تمام ٹیکس ادا کیے اور اپنے اثاثوں کے متعلق معلومات حکام کو بہ وقت ضرورت پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ شوکت عزیز نے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلسٹس کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ان کے سوالوں کے جوابات دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں