جنس کی تبدیلی ایک بار کروانے والوں کی مثال بھی کم کم ہی ملتی ہے

لندن (نیوز ڈیسک) جنس کی تبدیلی ایک بار کروانے والوں کی مثال بھی کم کم ہی ملتی ہے لیکن برطانوی شہری سیم کین تو اپنی جنس کے بارے میں ایسے شش و پنچ میں مبتلاءہوا کہ پہلے مرد سے عورت بنا، پھر جنس تبدیل کروائی اور مرد بنا اور اب ایک بار پھر عورت بننے کی کوشش میں ہے۔
سیم کین کبھی ایک کامیاب اور ہینڈسم مرد ہوا کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے جنس تبدیل کروائی اور عورت بن گئے تو جلد ہی احساس ہوگیا کہ عورت بن کر زندگی گزارنا کتنا مشکل ہے اور ایک بار پھر وہ مرد بن گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سیم کین جوانی میں ہی ایک کامیاب بین الاقوامی وکیل بن گئے اور انہوں نے کچھ ہی عرصے میں ڈھیروں دولت کما لی تھی۔ انہیں کامیابی اور دولت تو مل گئی لیکن اپنی جنس کے بارے میں اطمینان نصیب نہ ہو سکا۔ جب انہوں نے پہلی بار جنس تبدیل کروانے کا فیصلہ کیا تو وہ ٹروڈی نامی خاتون کے شوہر تھے اور ایک بیٹی اور بیٹے کے باپ بھی تھے۔ بیوی اور بچوں کی فریاد اور احتجاج کے باوجود انہوں نے جنس تبدیل کروائی اور خاتون بن کر ایک گلیمرس زندگی کا آغاز کردیا۔

سیم کا کہنا ہے کہ ان دنوں وہ پارٹیوں کے بہت شوقین ہوا کرتے تھے اور اپنا زیادہ تر وقت شاپنگ اور خوبصورت نوجوانوں کے ساتھ موج مستی میں گزارا کرتے تھے۔ 36 سال کی عمر میں جب ان کا تبدیلی جنس کا عمل مکمل ہوا تو وہ خود کو ایک دلکش دوشیزہ سمجھنے لگے۔ انہوں نے اپنی جنس تبدیل کروانے پر ایک لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے) خرچ کئے تھے اور سیم سے سمانتھا بن چکے تھے۔
سات سال کا عرصہ سمانتھا کے طور پر گزارنے کے دوران انہیں احساس ہوا کہ ایک عورت کی زندگی کس قدر مشکل اور تکلیف دہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آہستہ آہستہ شاپنگ ان کے لئے بوریت بھرا کام بن گیا اور وہ اس بات سے پریشان رہنے لگے کہ معاشرہ انہیں ایک خاتون کاروباری شخصیت کے طور پر عزت نہیں دیتا تھا۔ 2004ءمیں انہوں نے بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک بار پھر اپنی جنس تبدیل کروائیں گے اور مرد بن جائیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر لاکھوں پاﺅنڈ خرچ کئے اور ڈاکٹروں نے ان کے جسم کے مردانہ حصے بحال کرنے کے علاوہ انہیں ٹیسٹاسٹیرون ہارمون کے انجیکشن لگانا شروع کردئیے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ سمانتھا سے چارلس کین بن چکے تھے۔

انہوں نے چارلس بن کر ایک 28 سالہ خوبصورت دوشیزہ وکٹوریہ سے شادی کرلی، لیکن اس بار آپریشن سے وہ پہلے جیسے مرد نہیں بن پائے تھے۔ اب معاشرہ انہیں مرد مانتا تھا نہ عورت اور جلد ہی وہ ایک بار پھر عورت بننے کے بارے میں سوچنے لگے۔ جب انہوں نے اس تمنا کا اظہار اپنی بیوی وکٹوریا سے کیا تو وہ سیخ پا ہو گئیں اور پھر ان کا تعلق ختم ہونے میں دیر نہیں لگی۔ وکٹوریہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کسی مرد کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے، اسے کسی عورت کے ساتھ ہم جنس پرستی کی زندگی گزارنے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

وکٹوریا سے علیحدگی کے بعد چارلس ایک بار پھر آزاد ہو گیا اور عورت بننے کا سفر شروع کر دیا۔ اب وہ پھر سے امید کر رہا ہے کہ عورت بن کر اس کے دل کو سکون آ جائے گا اور پھر وہ ہمیشہ عورت ہی رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں