بشریٰ بی بی کی عمران سے ممکنہ شادی ، پاکپتن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل

پاکپتن عمران خان کی اپنی روحانی پیشوا بشریٰ عرف پنکی سے شادی خبروں پر پاکپتن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل، میاں خاور فرید مانیکا کے چھوٹے بھائی سابق ایم این اے میاں احمد رضا مانیکا کو آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کا ٹکٹ ملنے کا امکان معدوم ہوگیا۔ عمران خان کی طرف سے بشریٰ بی بی کو شادی کی پیشکش کئے جانے کے بعد پاکپتن کے سیاسی میدانوں میں بھونچال کی کیفیت پائی جا رہی ہے اور سیاسی پنڈت پیش گوئی کر رہے ہیں کہ پاک پتن سے تحریک انصاف کے میاں احمد رضا مانیکا کی بجائے پی ٹی آئی کی ٹکٹ اب سابق ضلع ناظم نسیم ہاشم کو مل جائے گی۔ عمران خان کی روحانی پیشوا کا تعلق دیپالپور کے گاؤں کوئے کا بہاول سے ہے وہ وہاں کے بڑے زمیندار ریاض وٹو کی بیٹی ہیں، ریاض وٹو مرحوم کی ان کے علاوہ ایک اور بیٹی مریم وٹو اور بیٹا احمد مجتبیٰ بھی ہے بشریٰ وٹو کی شادی سابق وفاقی وزیر میاں غلام محمد مانیکا کے بڑے بیٹے کسٹم آفیسر خاور فرید مانیکا سے ہوئی تھی، دونوں میاں بیوی کی تین بیٹیاں اور 2بیٹے ہیں دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں ایک بیٹی صوبائی وزیر عطا مانیکا کی بہو ہیں۔ دونوں میاں بیوی خاور فرید مانیکا اور بشریٰ بی بی روحانیت کی طرف مائل ہیں ان کی روحانیت کو شہرت اس وقت ملی جب تین سال قبل عمران خان کی روحانی پیشوا کے طور پر یہ سامنے آئیں ان کی اسلام آباد میں رہائش بھی بنی گالہ سے ملحقہ ہے جبکہ عمران خان اور ان کے فیملی کے درمیان تعلقات بھی برسوں پرانے ہیں۔ جولائی2017میں بھی عمران خان کی شادی کی افواہیں منظر پر آئی تھیں کہ وہ اپنی روحانی پیشوا کی ہدایت پر ان کی بڑی بہن مریم وٹو سے شادی کر رہے ہیں حالانکہ مریم وٹو بھی شادی شدہ تھیں اچند دنوں سے دوبارہ یہ خبر گردش کرنے لگ گئی کہ عمران خان نے اپنی روحانی پیشوا سے شادی کر لی ہے۔اس حوالے سے جب روزنامہ پاکستان نے معلومات حاصل کرنا شروع کیں تو انکشاف ہوا کہ بشریٰ بی بی تو چار ماہ سے اسلام آباد میں اپنے خاوند کے گھر کی بجائے لاہور میں اپنے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں جبکہ میاں خاور فرید کی والدہ شدید علالت کے باعث لاہور کے حمید لطیف ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں دیگر تمام بھائی اپنی فیملی کے ہمراہ ان کی عیادت کر رہے ہیں لیکن میاں خاور فرید مانیکا صرف بیٹے کے ہمراہ ہی والدہ کی عیادت کو آتے ہیں۔مانیکاخاندان کے ذرائع کے مطابق دونوں میاں بیوی میں کسی روحانی اشارے کے باعث باہمی رضا مندی کیساتھ علیحدگی ہو چکی ہے جبکہ مقامی خاندانی ذرائع نے تو یہاں تک بھی انکشاف کیا کہ بشریٰ بی بی سال 2017ء میں ہی کہہ چکی تھیں کہ وہ 2018ء میں بطور میاں بیوی نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں