پاکستان سے پیسے لے کر ان کو دے دو، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان دشمن سینیٹر کے بل کی حمایت کر دی

واشنگٹن ( ویب ڈیسک) دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں پاکستان نے اس کی کھل کر حمایت کی اور اس جنگ میں محض پاکستانی وسائل کے استعمال کے بدلے ہی اربوں ڈالر امریکا کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ یہ اربوں ڈالر تو دور کی بات امریکا نے سکیورٹی معاونت کی مد میں واجب الادا رقم بھی دینے سے انکار کر دیا ہے، اور ساتھ ہی امریکی رہنماﺅں نے پاکستان کے حصے کی رقم سے اپنے ہاں نئے انفراسٹرکچر منصوبے بنانے کی تجاویز بھی دینا شروع کر دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو جیسے پہلے ہی اس بات کے منتظر بیٹھے تھے۔ جیسے ہی یہ تجویز سامنے آئی تو فوراً اس کے لئے اپنی حمایت ظاہر کر دی ہے ۔
کنٹیکی سے تعلق رکھتے ہیں اور ریبپلکن پارٹی کے رکن ہیں، نے جمعرات کے روز اپنی تجاویز دیتے ہوئے کہا تھا ” میں ایک بل پیش کرنے جا رہا ہوں تا کہ جو رقم پاکستان کو امداد کے طور پر دی جاتی تھی اب اسے ہمارے ملک میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جائے۔ اسے اس مقصد کے لئے انفراسٹرکچر فنڈ میں شامل کیا جائے۔“
یاد رہے کہ امریکی صدر نے سال نو کے آغاز پر ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان پر بے جا الزامات عائد کئے اور امداد روکنے کی بات کی تھی۔ بعد ازاں امریکی حکومت نے امداد روکنے کے فیصلے کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا۔ اس فیصلے کی وجہ پاکستان کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی نہ کیا جانا بتایا گیا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا کی افغانستان میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں