دپیکا انتہا پسندوں کیخلاف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کے ا حتجاج میں پہنچ گئیں

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کے خلاف بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون یکجہتی کیلئے طلبہ کے پاس پہنچ گئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ کیساتھ یکجہتی کیلئے پہنچیں تو بھارتی میڈیا کو آگ لگ گئی اور اداکارہ کیخلاف خوب بھڑاس نکالنے لگا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آر ایس ایس کے غنڈوں کی طرف جواہر لعل یونیورسٹی پر حملے کے بعد کسی بھی بالی ووڈ اداکارہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

حملے کے خلاف جے این یو سمیت بھارت کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جارہا ہے جب کہ مودی سرکار نے الٹا جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر سمیت 19 طلبہ کے خلاف سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دپیکا پڈوکون آر ایس ایس کی غنڈہ گردی سے زخمی ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر جے این یو میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچیں اور ہندو انتہاپسندی کے خلاف مظاہرے میں طلبہ کے ساتھ کھڑی رہیں۔

طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے دپیکا کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے غنڈوں کے حملوں کے بعد میں بہت زیادہ غصہ ہوں تاہم حملہ کرنے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

یونیورسٹی کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ میں یونیورسٹی کے دورے کے دوران دیکھ کر مجھے درد محسوس ہو رہا ہے، یہ بہت زیادہ خوفناک صورتحال ہے۔

اُدھر بی جے پی کو اداکارہ کے دورے کے دوران آگ لگ گئی ہے، دہلی میں بی جے پی کے ترجمان تیجندر پال سنگھ اور بی جے پی کی قومی ترجمان نور پور شرما نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ اداکارہ کی فلموں کا بائیکاٹ کیا جائے۔

آر ایس ایس کی طرف سے یونیورسٹی کے طلبہ پر تشدد کے بعد بالی ووڈ اداکارہ انیل کپور کا کہنا تھا کہ جو کچھ یونیورسٹی میں ہوا ساری رات نہیں سو پایا، جو ہو رہا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ بالی ووڈ کے کچھ اداکار، وشال بھردواج، انوراگ کیشاپ، زویا اختر اور تاپسی پنوں، نے بھی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر حملے کے بعد طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلئے ممبئی میں مظاہرہ کیا تھا

دوسری طرف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دو روز گزرنے کے باوجود شرپسندوں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انتہا پسند تنظیم ہندو رکشا دل نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

جے این یو کے باہر جاری احتجاج میں طلبہ نے متنازع شہریت بل کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ بالی وڈ اداکارہ دپیکا پاڈوکون بھی مظاہرے میں شریک ہوئیں۔

ادھر دو روز گزرنے کے باوجود پولیس نے ابھی تک ایک بھی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا بلکہ الٹا جے این یو کی طلبہ یونین کی زخمی صدر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دہلی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج نقاب پوش افراد کے حملے میں ضائع ہونے کا بہانہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ممبئی کے آزاد میدان میں بھی جے این یو کے ساتھ یکجہتی اور مودی سرکار کے خلاف احتجاج ہوا۔ بنگلور میں بھی طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ کلکتہ میں پولیس نے طلبہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ مظاہرے میں “کشمیر کو آزاد کرو ” کا پوسٹر اٹھانے والی بہادر طالبہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں