روشن سندھ پروگرام کرپشن کیس: مراد علی شاہ نیب راولپنڈی آفس میں پیش

اسلام آباد: (سٹی نیوز) جعلی اکاؤنٹس اور روشن سندھ پروگرام کرپشن کیس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نیب راولپنڈی آفس میں پیش ہوگئے، تحقیقاتی ٹیم کے مراد علی شاہ سے سوال جواب جاری ہیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے نیب کی ایک گھنٹے سے پوچھ گچھ جاری ہے، مراد علی شاہ نے سندھ روشن پروگرام کرپشن الزامات سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ قوائد و ضوابط کے تحت منصوبہ کے فنڈز مختص کئے، سندھ روشن پروگرام منصوبے میں کوئی غلط کام نہیں کیا، منصوبہ کی منظوری کیلئے اختیارات کا کوئی غلط استعمال نہیں کیا۔

نیب میں پیشی کے بعد مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عزیر بلوچ کو رینجرز نے گرفتار کیا تھا، رینجرز نے 90 روز عزیر بلوچ کو ریمانڈ پر رکھا، جے آئی ٹی کے سربراہ نے رپورٹ محکمہ داخلہ کو جمع کرائی، 7 دستخط کیساتھ اصل جے آئی ٹی رپورٹ آج بھی محکمہ داخلہ کے پاس ہے، علی زیدی کو کوئی گیٹ پر چیزیں دے جاتا ہے جو وہ لے آتے ہیں، جے آئی ٹی میں تمام اداروں کے نام تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا علی زیدی نے غیر ذمہ دارانہ حرکت کی، موٹر سائیکل پر کوئی آیا اور ان کے چوکیدار کو رپورٹ دے کر چلا گیا، لگتا ہے یہ ملزمان کی حمایت کے چکر میں ہیں، غیر دستخط شدہ جے آئی ٹی رپورٹ پڑھی گئی، علی زیدی کی جے آئی ٹی سامنے لانے پر ہم پر سیاسی دباؤ آیا، اب یہ بتاتے ہیں کہ 3 جےآئی ٹیز ہیں، جےآئی ٹی ایک ہوتی ہے، علی زیدی کی جے آئی ٹی میں سی آئی ڈی لکھا ہے، اصل جے آئی ٹی رپورٹ میں سی آئی ڈی نہیں سی ٹی ڈی لکھا ہے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا علی زیدی جو بات کرتے ہیں اس پر بھروسہ مشکل ہے، علی زیدی کو کوئی گیٹ پر چیزیں دے جاتا ہے جو وہ لے آتے ہیں، وفاقی حکومت سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں