الیکشن میں روسی مداخلت ایف بی آئی کا ٹرمپ سے براہ راست تفتیش کا فیصلہ

گزشتہ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت پر طویل عرصے سے تفتیش کرنے والی ایف بی آئی کی ٹیم نے اب اس سلسلے میں اس سکینڈل کے مرکزی کردار صدر ٹرمپ سے براہ راست انٹرویو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’این بی سی‘‘ ٹی وی نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اطلاع ملنے کے بعد صدر ٹرمپ کے وکلاء کی ٹیم سرجوڑ کر بیٹھ گئی ہے اور وہ اس براہ راست انٹرویو سے بچنے کے طریقے ڈھونڈنے پر لگی ہوئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وکلاء نے اس سلسلے میں وضاحتیں طلب کی ہیں کہ کیا پراسیکیوٹر جنرل رابرٹ میولر خود صدر کو انٹرویو کریں گے یا یہ ذمہ داری تفتیشی ٹیم کے دوسرے ارکان کو دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کو تفتیش کی توہین سے بچانے کیلئے وہ قانونی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا وہ تفتیشی ٹیم سے سوالنامہ طلب کرسکتے ہیں جس کا ٹرمپ تحریری جواب دے دیں۔ ’’این بی سی‘‘ ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے یہ معلومات حاصل کی ہے کہ وکلاء کی ٹیم چاہتی ہے کہ براہ راست انٹرویو کی بجائے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ کی طرف سے ایک حلفیہ بیان داخل کر دیا جائے جس میں وہ اپنی بیگناہی اور معصومیت ثابت کریں۔ ٹی وی رپورٹ میں ایف بی آئی کے سابق اٹارنی جنرل جیمز کومی کے ساتھ کام کرنیوالے سابق اٹارنی چک روزن برگ کا بیان شامل ہے۔ جس میں انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی کے تفتیش کار صدر ٹرمپ کے براہ راست انٹرویو کے موقف سے نہیں ہٹیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں