”یہ آپ کس طرح کے کپڑے پہن کر آ گئیں ہیں “سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے بعد مفتی عبدالستار نے نسرین جلیل کو ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس قانون سازی اور عوامی حقوق کی بات کرنے کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں مگر ان اجلاسوں میں عوام کی بات کرنے کی بجائے ممبران غیر ضروری بحثوں میں مصروف رہتے ہیں، اکثر اوقات ممبران کی بحث انتہائی دلچسپ بھی ہوجا تی ہے، آج سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کااجلاس منعقد کیا گیا تو وہاں سینٹر نسرین جلیل ساڑھی پہن کر ایوان میں آگئیں، انہیں ساڑھی میں دیکھ کر مفتی عبد الستار بھی شدید غصے میں آگئے اور سینٹر کو کھری کھری سنا دیں۔
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینٹر نسرین جلیل ساڑھی پہن کر آگئیں ، انہیں اس لباس میں دیکھ کر اجلاس کے بعدکمیٹی کے رکن مفتی عبدالستارنے چیئرپرسن کے لباس پراعتراض کردیا۔ مفتی عبد الستار کا کہنا تھا کہ آپ جیسی دانشوراورلائق خاتون کومسلمانوں والاحلیہ اپنانا چاہیے، آپ باقی خواتین کے لیے رول ماڈل بنیں۔ مفتی عبد الستار کے اعتراض پر نسرین جلیل نے کہا کہ میں74سال کی عورت ہوںاور میں مرتے مرتے بچی ہوں، میری عمر کی خواتین کے لئے کیا حکم ہے۔ دوران اجلاس مفتی عبد الستار نے کہا کہ توہین رسالت قانون میں ترمیم کی سازش ہو رہی ہے اور ہم اس طرح کی کوئی ترمیم نہیں ہونے دیں گے۔ اس اعتراض پر نسرین جلیل کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کون اور کہاں ترمیم کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں