حکومت کا پاکستان گلیشیرمانیٹرنگ نیٹ ورک منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: ( سٹی نیوز) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آبی شعبے کے لیے 177 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان گلیشیرمانیٹرنگ نیٹ ورک منصوبے پر کام شروع کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ بجٹ میں آبی وسائل کے لیے ایک کھرب 77 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے 13 منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پن بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبوں کے لئے 114ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آبی وسائل کی بہتری کے 82 جاری منصوبوں کے لیے 632 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، دیا میر بھاشاڈیم کی تعمیر کے لیے 16 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ دیامیربھاشاڈیم کیلئے اراضی خریداری اور آباد کاری کیلئے 5ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔

دستاویز کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں کچھی کینال منصوبے کے لیے اڑھائی ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، حکومت نے آئندہ مالی سال میں پاکستان گلیشیرمانیٹرنگ نیٹ ورک منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان گلیشئیر مانیٹرنگ نیٹ ورک منصوبے کے لیے 20کروڑ روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

دوسری طرف داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لیے80 ارب روپے سے زائد کے فنڈز تجویز زیر غور ہے، گولن گول پن بجلی منصوبے کے لیے 99 کروڑ روپے، 128 میگاواٹ کے خٰیال خواڑ پن بجلی منصوبے کیلئے 1ارب 35 کروڑ روپے رکھنے کا پلان ہے۔

وارسک ہائیڈروالیکڑک پاور سٹیشن کے لیے 3ارب20 کروڑروپے مختص کرنے کی تجویز ہے، لسبیلہ میں ونڈر ڈیم کی تعمیر کے لیے اڑھائی ارب روپے سے زائد رکھنے کاپلان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں