پاکستان میں جب بھی کہیں عوام کا ہجوم اکٹھا ہوتا ہے تو اس ہجوم کے شرکا کو دو ہی خطرات ہوتے ہیں یا تو جیب کٹ جائے گی یا پھر خدانخواستہ دہشتگردی کا واقعہ نہ پیش آجائے

اسلام آباد (سٹی نیوز) پاکستان میں جب بھی کہیں عوام کا ہجوم اکٹھا ہوتا ہے تو اس ہجوم کے شرکا کو دو ہی خطرات ہوتے ہیں یا تو جیب کٹ جائے گی یا پھر خدانخواستہ دہشتگردی کا واقعہ نہ پیش آجائے۔ لیکن جب عوام کا ہجوم اپنے مسائل کے خلاف احتجاج کیلئے یا کسی سیاسی پاور شو کیلئے اکٹھا ہوتا ہے تو صحافی ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جو اس ہجوم کی آواز بنتے ہیں۔ مگر کچھ بد طینت لوگ ان صحافیوں کو بھی نہیں بخشتے اوران کی جیبوں کا بھی صفایا کردیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ہے سر شامی کے ساتھ ، جو مسلم لیگ ن کی ریلی کی کوریج کیلئے اپنے ساتھیوں کاشف شکیل اور کلیم صمد شیخ کے ساتھ اسلام آباد میں موجود ہیں۔ ریلی کی کوریج کے دوران کسی بدطینت شخص نے سر شامی کی جیب کا بھی صفایا کردیا اور ان کا قیمتی موبائل فون لے اڑا۔
واضح رہے کہ یہ محنتی ٹیم جلسے جلوسوں اور مختلف ایشوز کی فیس بک صفحے پر لائیو کوریج کرتی ہے۔ چونکہ یہ کوریج موبائل فون کے ذریعے کی جاتی ہے اس لیے ایک موبائل کی بیٹری ختم ہونے پر تینوں افراد کے موبائل فون باری باری استعمال کیے جاتے ہیں اس لیے یاسر شامی کا موبائل فون چوری ہونے کے باعث نہ صرف ریلی کی کوریج میں خلل واقع ہوگا بلکہ ایک رپورٹر کا اثاثہ (اس کے کانٹیکٹس) بھی ضائع ہوگئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں