مظاہرین پر فائرنگ، عراقی صدر نالاں، مسلح افراد کا حملہ، سکیورٹی اہلکار ہلاک

بغداد: (ویب ڈیسک) سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین پر فائرنگ پر عراقی صدر برہم صالح نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ مسلح افراد کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار اور دو افسران سمیت چار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق میں حکومت مخالف احتجاج جاری ہے، یہ مظاہرے پر تشدد شکل اختیار کر گئے ہیں، اس دوران سکیورٹی فورسز اورمظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکار اور متعدد افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ عوامی مظاہرے ملک میں بے تحاشا بیروزگاری، کرپشن، بجلی اور پانی کی فراہمی کی خراب صورت حال کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
عراقی صدر ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی فوج اور پولیس دونوں کو ہی تمام عراقیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا جبکہ قومی پارلیمان ملک میں قانونی صلاحات، خاص کر انتخابی قوانین میں ترامیم کی راہ ہموار کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک نے گزشتہ چند عرصوں کے دوران کافی تباہی، خونریزی، جنگیں اور دہشتگردی کا سامنا کیا ہے۔ اس لیے عوامی مطالبات کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔
عراقی خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد میں ایک مسلح حملے کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار جبکہ چار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں دو افسران بھی شامل ہیں۔ یہ سکیورٹی اہلکار مظفر سکوائر میں ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے، اسی دوران نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے باعث ایک سکیورٹی اہلکار موقع پر جبکہ چار سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ نامعلوم سنائپرز نے بغداد میں چار لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے، ہلاک ہونے والوں میں سے دو کا تعلق پولیس سے ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق میں دن کے دوران کرفیو ختم کر دیا گیا ہے، پولیس کی سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا تھا تاہم تاحال عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک اور غیر ملکی خبر رساں ادارے ’فارن پالیسی‘ کے مطابق مظاہرین کی طرف سے نئے مطالبات سامنے آئے ہیں، نئے مطالبات میں سب سے بڑھ کر نئی حکومت کو موقع دینے کی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔
مظاہرین میں حیران کن طور پروہ بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 13 سال کے درمیان ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہ وہ نوجوان جوبیروز گار ہیں اور عمریں 30 سال سے بھی کم ہے۔
گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مہم کی قیادت سے شہرت پانے والے لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی کی تنزلی نے بہت سے عراقیوں کو ناراض کر دیا۔
ان کے خیال میں اس قومی ہیرو کی نوکری جانے کی وجہ بدعنوانی کے خلاف ان کی کوششیں اور ان کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی میں موجود سیاست بنی۔ ان عراقیوں کے لیے اگر دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والا قومی ہیرو اگر بدعنوانی اور سیاسی اشرافیہ سے نہیں لڑ سکتا تو پھر کس کی مجال ہے کہ ایسا کرے۔
25 سالہ ایک نوجوان عبد اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت سے معاملات ٹھیک نہیں چل رہے، نئی حکومت کو موقع ملنا چاہیے، میرے ایک دوست کو گولی لگی جس کا پاؤں زخمی ہے لیکن وہ اس کے باوجود مظاہروں میں شرکت کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں