خارجہ محاذ پر حکمت عملی، وزیراعظم کا بیان حقیقت پسندانہ

لاہور: (تجزیہ: سلمان غنی) وزیراعظم عمران خان نے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو ہونے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اب امن والا ملک بنے گا، دیگر ممالک میں امن کرانے کا کردار ادا کرے گا۔ ہماری کوشش ہوگی ایران اور سعودی عرب میں دوستی کیلئے بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اب ہم کسی کی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان خارجہ محاذ پر اپنی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم پیغام ظاہر ہو رہا ہے لیکن ہمیں اس امر کا جائزہ بھی لینا پڑے گا کہ کیا پاکستان واقعتاً خارجہ محاذ پر امن کیلئے کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے ؟ آج کے پاکستان پر بیرونی دباؤ کارگر ہو سکے گا ؟ سعودی عرب ، ایران کشیدگی اور تناؤ کے خاتمہ میں کیا ہم کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟ مشرقی وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟ کیا پاکستان پر کوئی امریکی دباؤ ہے ؟۔

وزیراعظم عمران خان کی امن کے حوالے سے خواہشات اور سعودی عرب، ایران کے تنازع میں صلح کیلئے کردار پاکستان کے مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ کیونکہ نیوکلیئر طاقت کی حیثیت سے پاکستان کا عالم اسلام میں اپنی اہمیت اور کردار ہے، عالم اسلام یا ان ممالک کے درمیان اگر محاذ آرائی اور تناؤ پیدا ہوگا تو یقیناً اس سے پاکستان پر اثرات ہوں گے یہی وجہ ہے کہ جب بھی دو مسلم ممالک کے درمیان محاذ آرائی اور تناؤ پیدا ہوگا تو یقیناً اس سے پاکستان پر اثرات ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ جب بھی دو مسلم ممالک کے درمیان محاذ آرائی یا تناؤ شروع ہوتا ہے ساتھ ہی پاکستان کا امتحان بھی شروع ہو جاتا ہے، لہٰذا وزیراعظم عمران خان نے مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ نئی صورتحال کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ہم پر امن ملک ہیں اور ملکوں کے درمیان امن چاہتے ہیں۔

لیکن اگر سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو بعض کام ہمیں نہ چاہنے کے باوجود بھی کرنے پڑتے ہیں جس میں ایک اہم فیکٹر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار تھا اور نو گیارہ کے واقعات کے بعد امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہوئے ڈکٹیشن دی اور ہمیں فرنٹ لائن کنٹری قرار دیتے ہوئے افغانستان کے مقابلہ میں لا کھڑا کیا۔ امریکا سمیت 42 ممالک اور ان کی افواج یہاں اپنا تسلط تو قائم نہ کر سکیں لیکن اس جنگ کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑا، ہماری معیشت اور انفراسٹرکچر کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ ہماری ساٹھ ہزار قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اور وہ امریکا جس نے ہمیں نہ چاہتے ہوئے اس جنگ میں جھونکا اس نے اپنا وزن علاقائی صورتحال میں بھارت کے ساتھ ڈالا۔

موجودہ صورتحال میں امریکا ایران جنگ کا خطرہ ٹل گیا، پاکستان کی فتح غیر جانبداری قائم رکھنے میں ہوگی۔ پاکستان کیلئے اہم موقع ہے، مشرق وسطیٰ کو جنگ سے بچانے میں کردار ادا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں