سینیٹرز کی دوہری شہریت، الیکشن کمیشن کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم ، چیف جسٹس نے آئینی نقطے کی سماعت کیلئے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوہری شہریت چھوڑنے والے پانچوں سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے عبوری فیصلہ سنادیا۔ سپریم کورٹ نے معاملے کے آئینی نقطے کا جائزہ لینے کیلئے 7 رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دے دیا ہے۔
سینیٹرز کی دوہری شہریت کے کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی۔ دوران سماعت دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو سنادیا گیا ہے۔فیصلہ چیف جسٹس نے سنایا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پانچوں سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پانچوں سینیٹرز چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے اپنا ووٹ بھی کاسٹ کرسکتے ہیں۔
چودھری صاحب!آپ پاکستان کیوں آئے ہیں، آپ تو بیوی ، بچوں ،دولت ۔۔۔۔۔۔دہری شہریت کیس میں چیف جسٹس نے چودھری سرور کو ایسی بات کہہ دی کہ ان کے ہوش اڑادیئےکیس کی سماعت کے دوران یہ آئینی نقطہ بھی زیر بحث آیا کہ کیا دوہری شہریت چھوڑ کر منتخب ہونے والے سینیٹرز دوبارہ تو دوہری شہریت نہیں لے لیں گے۔ چیف جسٹس نے اس آئینی نقطے پر 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا اور کہا کہ انہوں نے عبوری فیصلہ سنایا ہے اس آئینی نقطے کا فیصلہ لارجر بینچ ہی کرے گا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چوہدری سرور، مسلم لیگ ن کے سینیٹرز نزہت صادق، سعدیہ عباسی اور ہمایوں اختر کی دہری شہریت کے معاملے پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے کر الیکشن کمیشن کو ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا تھا۔ خیال رہے پانچویں سینیٹر کا تعلق بلوچستان سے ہے اور یہ نو منتخب سینیٹرز اپنی دہری شہریت چھوڑ چکے ہیں تاہم لارجر بینچ کے سامنے یہ آئینی نقطہ زیر بحث آئے گا کہ کہیں یہ ارکان دوبارہ تو دہری شہریت نہیں لے لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں