جذام کے مریضوں کیلئے کام کرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤکراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگئیں

کراچی (سٹی نیوز) جذام کے مریضوں کیلئے کام کرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤکراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگئیں۔
سی ای او میری ایڈیلیڈ سنٹر ڈاکٹر مارون لوبو کے مطابق ڈاکٹر رتھ 2 ہفتے سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات ساڑھے 12 بجے 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤکی آخری رسومات 19 اگست کو سینٹ پیٹرکس چرچ صدر میں ادا کی جائیں گی۔
جذام کے مریضوں کے قریب ان کے اپنے بھی جانے کی ہمت نہیں کرتے لیکن سلام ہے اس جرمن خاتون کو جس نے اپنی عمر کے 50 سال پاکستان میں اس بیماری کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے گزار دئیے۔یہ عظیم خاتون ڈاکٹر روتھ فاؤہیں جن کی پیدائش 9 ستمبر 1929 کے دن جرمنی کے شہر لائپزگ میں ہوئی۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ایک بار پاکستان کا دورہ کیا تو یہاں جذام کے مریضوں کی حالت دیکھ کر شدید دکھی ہوئیں۔ یہ 1960 کی بات ہے کہ ڈاکٹر فاؤنے خود کو پاکستان میں جذام کے مریضوں کی مدد کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کراچی میں اپنے کام کا آغاز ایک چھوٹی سی کٹیا سے کیا جو بعد میں ’میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر‘ میں تبدیل ہو گئی۔وہ صرف بڑے شہروں میں ہی جذام کے مریضوں کی دیکھ بھال نہیں کرتی تھیں بلکہ دور دراز دیہاتوں کا سفر کر کے ان مریضوں تک بھی پہنچتی تھیں جن کی خبر لینے والا دنیا میں کوئی نہ تھا۔ وہ یہ سارا کام عطیات جمع کر کے اور خود کو دن رات اس کام کے لئے وقف کر کے ممکن بناتی رہیں۔
پاکستان کے لئے ڈاکٹر فاؤ کی بے لوث خدمت کے نتیجے میں انہیں ستارہ قائد اعظم، ہلال امتیاز، ہلال پاکستان اور جناح ایوارڈ جیسے ممتاز اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی عظیم خدمات کے اعتراف میں 1988 میں انہیں پاکستان کی شہری بنا لیا گیا۔
اپنی زندگی کی پانچ دہائیاں دردناک ترین مرض میں مبتلاء پاکستانی مریضوں کے لئے وقف کر دینے والی یہ رحمدل خاتون گزشتہ دو ہفتوں سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ساڑھے بارہ بجے دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤکی آخری رسومات 19 اگست کو کراچی میں ادا کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں