جب جاپان میں زینب جیسی معصوم بچی کو ریپ کیا گیا تو پھر لوگوں اور حکومت نے کیا کیا؟

ٹوکیو / اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی و اینکر پرسن جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ جب جاپان میں تین امریکی فوجیوں نے ایک چھوٹی بچی کا ریپ کیا تو پوری جاپانی قوم دنیا کی واحد سپر پاور کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے معاہدے تبدیل کرنے اور فوجیوں کو جاپان میں سزا بھگتنے پر مجبور کردیا۔
اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید چوہدری نے بتایا کہ جاپان میں اوکی ناوا جزیرے پر امریکی فوجی چھاﺅنی قائم ہے، 4 ستمبر 1995 کو تین امریکی فوجیوں نے ایک گاڑی کرائے پر لی اور راہ چلتی 12 سالہ بچی کو اغوا کیا اسے ریپ کیا اور اسے زخمی حالت میں ویرانے میں پھینک گئے۔، قوم 12 سال کی بچی کے ساتھ کھڑی ہوگئی،
1960 میں امریکہ اور جاپان میں معاہدہ ہوا تھا کہ کسی بھی جرم میں جاپان امریکی فوجی کو گرفتار نہیں کرے گا بلکہ امریکہ کو تحریری شکایت کرے گا جس پر امریکہ اپنے فوجی اہلکاروں کو امریکہ لے جا کر انہیں سزا دے گا۔اس واقعے کے بعد جاپانی قوم نے یہ معاہدہ ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد امریکی صدر بل کلنٹن اور جاپانی وزیر اعظم ہاشی موتو کے درمیان ملاقات ہوئی اور معاہدہ تبدیل کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں