کھلاڑیوں کی تربیت کیلئے باب وولمر کا انداز اپنانے کی کوشش کروں گا:یونس خان

لاہور: (ویب ڈیسک) دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ بننے والے یونس خان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی تربیت کیلئے باب وولمر کا انداز اپنانے کی کوشش کروں گا تاکہ ہر پلیئر کو اس کے لیول کے مطابق بتایا جاسکے، ریٹائرمنٹ کے بعد بہت کچھ سیکھا ہے، کوشش ہوگی کہ نہ صرف کرکٹ بلکہ زندگی کے تجربات سے بھی پلیئرز کو مستفید کرایا جاسکے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی منیجمنٹ میں شامل ہونے کے بعد میڈیا کے ساتھ وڈیو کانفرنس میں یونس خان نے کہا کہ انگلینڈ کی سیریز ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، کوشش ہوگی کہ وہ پلیئرز کو ان کی حدود میں رہتے ہوئے یہ گر سکھائیں کہ بڑی اننگز کیسے کھیلنی ہے اور کیسے سنچری کو ڈبل اور ٹرپل سنچری میں تبدیل کرنا ہے۔

یونس خان نے کہا کہ وہ یہ بہانہ نہیں بنائیں گے کہ محدود وقت تھا اس لیے کچھ نہیں کرسکے، اگر کام کرنا ہو تو ایک دن بھی کافی ہوتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ کوچنگ میں باب وولمر کے انداز سے کافی متاثر رہے ہیں اور کوشش ہوگی کہ اس انداز میں ہی ٹیم کے بیٹسمینوں کو سکھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تین سالوں میں ان میں کافی عاجزی آئی ہے اور وہ اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ کوچنگ اسٹاف میں کسی سے انا کا مسئلہ نہیں ہوگا۔

یونس خان نے کہا کہ وہ تنقید ہمیشہ تحمل مزاجی سے سنتے رہے اور پھر جارح مزاجی سے اپنے کھیل کو بہتر کرتے ہوئے اس تنقید کا جواب دیتے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کیریئر میں بہت کچھ حاصل کیا لیکن جو کچھ کرکٹ کیریئر میں حاصل کیا وہ ماضی کا حصہ ہے۔

ایک سوال پر سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اظہر علی اور اسد شفیق پر ان کے اور مصباح کے ریٹائرمنٹ کے بعد بھاری ذمہ داریاں آگئی تھیں، بطور کوچ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ ان تمام پلیئرز کے اسکلز سے زیادہ ان کو ذہنی طور پر پختہ بنانے میں کردار ادا کریں، کوشش کریں گے کہ پلیئرز کو ڈبل مائنڈ نہ کریں کیوں کہ مصباح الحق پہلے ہی ان کو بہت کچھ سکھا چکے ہوں گے۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ کوچز کا کام پلیئرز کی سہولت کاری ہوتا ہے، بابر اعظم کا فی الحال کوہلی سے موازنہ مناسب نہیں، پانچ سال بعد بابر اعظم کا آج کے کوہلی سے موازنہ کیا جائے، بابر اچھا پلیئر ہے اور اگر ایک پلیئر یہ عہد کرلے کہ اسے زندگی میں کچھ اہداف حاصل کرنے ہیں تو وہ انہیں ضرور حاصل کرتا ہے۔ مصباح کے ساتھ فاتحانہ انداز میں کرکٹ چھوڑی اور دوبارہ ایک نیا سفر بھی فاتحانہ انداز میں شروع کرنے کی خواہش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں