مدینہ منورہ جانے والے مسلمانوں کے لئے چودہ سو سال پرانا حضرت عثمان غنی کا مسلمانوں کے لئے وقف کیا ہوا کنواں

مدینہ منورہ(ویب ڈیسک)مدینہ منورہ جانے والے مسلمانوں کے لئے چودہ سو سال پرانا حضرت عثمان غنی کا مسلمانوں کے لئے وقف کیا ہوا کنواں دیکھنا انتہائی اہم زیارت ہوتی ہے۔بہت مسلمان اس بابرکت پانی سے وضو کرتے ہیں۔اس کنویں کو بئر عثمان بھی کہا جاتا ہے اور بئیر رومہ بھی۔الحمد للہ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجد اس کے پانی میں کسی قسم کی آلودگی نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کنواں آج بھی زائرین کو میٹھااور ٹھنڈا پانی پیش کرتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺکی زندہ معجزہ و نشانی کی بے مثال یاد دلاتا ہے۔
’’بئرِ عثمان ‘‘ رومہ الغفاری کی ملکیت تھا۔ وہ اس کنوئیں کا پانی فروخت کرکے روزی کماتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ نے ان سے فرمایا ’’ کیا تم اس کنوئیں کو جنت کے چشمے کے بدلے فروخت کرو گے‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’یا رسول اللہ میں قربان۔میرے پاس اس کے سوا کوئی کنواں ہے نہیں ،لہذا میں ایسا نہیں کر سکتا‘‘
حضرت عثمان غنی نے یہ سنا تو 35 ہزار درہم کے عوض اس کنوئیں کو خرید لیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا ’’یارسول اللہ اگر میں اس کنوئیں کو خرید لوں تو کیا میرے لیے بھی جنت کے چشمے کی وہ ہی پیش کش ہو گی جو آپ نے رومہ کو فرمائی تھی‘‘
سرکار دوعالم نے فرمایا ’’ہاں ‘‘.
حضرت عثمان نے کہا ’’ اے اللہ کے نبی ﷺمیں اس کو مسلمانوں کے واسطے خرید چکا ہوں‘‘۔ اس کنویں پر چودہ سو سال میں کئی بار تحقیق بھی ہوچکی ہے۔اس کے پانی میں شفا ہے۔اس سے میٹھا پانی حاصل ہوتا ہیجو پینے کے علاوہ کھجوروں کے باغ اور ایک فارم کو مہیا کیا جاتا ہے۔سعودیہ کا محکمہ زراعت اسکی حفاظت کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں