کرپشن کیسز میں تاخیری حربے استعمال کیے جانے کیخلاف کچھ کرنا ہوگا، شہزاد اکبر

اسلام آباد: (سٹی نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ فرد جرم عائد کرنے کیلئے ملزم کا عدالت پیش ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کرپشن کیسز میں تاخیری حربے استعمال کیے جانے کیخلاف کچھ کرنا ہوگا۔

سٹی نیوز کے پروگرام ‘’دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب میں طویل عرصے تک کیسز چلنے پر حکومت کو تشویش رہی ہے۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے۔ حکومت نے مدد مہیا کرنے کے لیے نیب سے کئی بار پوچھا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف عدالتوں کی تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس کا فیصلہ مسئلے کی حل طرف لے کر جائے گا۔ ماضی میں جو کیسز دبا دیے جاتے تھے، اب وہ عدالت میں چل رہے ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نظام نے کروٹ لی ہے۔ حکومت نے برے معاشی حالات کے باوجود نیب کے وسائل میں اضافہ کیا۔ کیسز کا منتقی انجام تک پہنچنا پی ٹی آئی کے مفاد میں ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چیف جسٹس کے مشکور ہیں کہ انہوں نے عدالتی معاملات کی بہتری کے لیے قدم اٹھایا۔ عدالت کے تحریری فیصلوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپیل نہیں ہو پاتی اور تاخیر ہوتی ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ شہادتوں کے ریکارڈ کیے جانے کے عمل کو بہتر کرنے کے لیے عدلیہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ کیسز کو جلد نمٹانے کے لیے قانونی اصلاحات کی بھی ضرورت ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں