حرام کاری سے منع کرتی ہو، منشیات فروش بھائی کا سگی بہن پر وحشیانہ تشدد

فیصل آباد (ویب ڈیسک) فاحشہ لڑکیوں کو گھر لاکر حرام کاری کرنے سے منع کرنے پر فیصل آباد تھانہ بٹالہ کالونی کے علاقہ محلہ جیلانی پورہ میں بدنام زمانہ منشیات فروش سگے بھائی نے اپنی ”یتیم معذور بہن“ کو بے پناہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا, بھائی نے بہن کو برہنہ کرکے جسم کے نازک حصوں پر جوتے مارے اور اس کا جسم جلتے سگریٹوں سے داغتا رہا اور وحشیانہ تشدد سے بہن کا جسم چور چور کردیا۔

الٹا بہن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ باہر سے حرام کاری کرواتی ہو، مجھ سے حرام کاری کرواﺅ، سگے بھائی کے بہن سے ڈائیلاگ اور بہن کو قتل کردینے کی دھمکیاں، بے پناہ تشدد کرنے کے بعد بہن کو گھر میں قید کرلیا۔ بہن موقع ملنے پربھائی کی قید سے نجات پاکر اپنے عزیزوں کے پاس چلی گئی۔ بھائی کے ظلم و تشدد کا نشانہ بننے نوجوان لڑکی اپنی عزیزہ کے ہمراہ کارروائی کیلئے تھانہ بٹالہ کالونی گئی مگر بٹالہ کالونی پولیس نے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے انکا رکردیا۔

ستیانہ روڈ محلہ جیلانی پورہ کی رہائشی ایک ٹانگ سے معذور 22 سالہ ثوبیہ نے بتایا کہ میرے والدین اور میری بڑی بہن عاصمہ فوت ہوچکی ہے اور میرا حقیقی بھائی آصف پہلوان شہر کابڑا منشیات فروش ہے جو کہ چرس، ہیروئن، شراب اور آئس کا نشہ فروخت کرتا تھا اور منشیات فروشی کے الزام میں تقریباً تین سال جیل میں بند رہ چکا ہے۔
اس کے خلاف تھانہ بٹالہ کالونی میں مقدمات درج ہیں۔ میں نے اور میری بڑی بہن عاصمہ نے کوششیں کرکے اپنے بھائی آصف کو جیل سے رہا کروایا اور میری بڑی بہن عاصمہ بھی تقریباً دو ماہ قبل وفات پاگئی جس کے بد میرے بھائی آصف نے غیر عورتوں کو گھر لا کر حرام کاری کرنا شروع کردی اور ناجائز فروشی کا دھندہ کرنا شروع کردیا ہے۔ میں ایک ٹانگ سے معذور ہوں اور میں نے اپنے بھائی آصف کو فاحشہ عورتوں کو گھر میں حرام کاری اور ناجائز فروشی کرنے سے منع کیا تو وہ میری جان کا دشمن بن گیا ہے۔

میرے بھائی نے گزشتہ دنوں مجھے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا، میرے منہ اور جسم کے نازک حصون پر جوتے، مکے اور تھپڑ مارے اور بازوﺅں اور ٹانگوں پر جلتے سگریٹس لگائے جس سے میرے جسم کے مختل حصے جل گئے، میں نے اپنے بھائی کو خدا اور رسول کے واسطے دے کر اور ترلے منتیں کرکے اس کو اپنے اور وحشیانہ تشدد کرنے سے منع کیا مگر میرے ظالم بھائی کے دل میں ذرا رحم اور مجھ پر ترس نہ آیا اور الٹا مجھ پر الزام عائد کردیا کہ باہر سے حرام کاری کرواتی ہو مجھ سے حرام کاری کروالو۔
بھائی کی یہ بات سن کر میں شرم سے ڈوب مرگئی اور میرے بھائی نے مجھے قتل کردینے سمیت مختلف قسم کی دھمکیاں دیں اور مجھے گھر میں قید کردیا اور میں قتل ہوجانے کے خوف سے موقع پاکرفرارہوکر اپنے عزیزوں کے ہاں پہنچ گئی اور مجھے مارنے کیلئے تلاش کررہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اس کا کہنا تھا کہ میں کارروائی کرنے کیلئے تھانہ بٹالہ کالونی گئی، مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی ہے، پولیس میرے منشیات فروش بھائی کے ساتھ ساز باز ہوگئی ہے۔ اس امر پر اپنے بھائی کے ظلم و ستم کا شکار یتیم معذور لڑکی نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، آئی جی پنجاب، آر پی او، سی پی او اور ایس ایس پی آپریشن فیصل آباد سے مدد کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں