ایک مبارک آدمی کا یہاں سے گزر ہواہے، آپ نے اس نحیف بکری کو دوہنا شروع کیا تو سارے مہمانوں نے سیر کر اس کا دودھ پیا

ربیع الاوّل سنہ 13 بعثت میں رحمت عالم نے ارضِ مکہ کو الوداع کہا اور تین راتیں غار ثور میں گزار کر عازم مدینہ ہوئے۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ آپ کے ہم رکاب تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر سوار تھے اور وہ دونوں دوسری اونٹنی پر۔ اس مقدس قافلے کے آگے آگے حضرت ابوبکر کا غلام عبداللہ بن اریقط لیثی پیدل چل رہا تھا۔ یہ مختصر قافلہ قدید کے مقام پر پہنچا تو حضرت اسما رضی اللہ عنہا بنت صدیق اکبر نے غار سے روانگی کے وقت جو کھانا ساتھ کیا تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو بھوک اور پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت امّ معبد رضی اللہ عنہا کی شہرت سن رکھی تھی اور انہیں یقین تھا کہ اسکی قیام گاہ پر کھانے پینے کا کچھ انتظام ہو جائیگا۔ چنانچہ یہ مقدس قافلہ امّ معبد کے خیمے پر جا کر رکا۔ یہ خیمہ قدید کے اطرف میں مشلل کے اندر واقع تھا۔اْمِّ معبد پختہ عمر کی باعفت خاتون تھی اور ان لوگوں کی میزبانی کیا کرتی تھیں۔ اللہ کے محبوب رسول جب اْمِّ معبد کے خیمے کے پاس پہنچے تو وہ اپنے خیمے کے سامنے بیٹھی ہوئی تھیں۔ سرکارنے اس سے دریافت کیا ’’ آپ کے پاس اگر دودھ گوشت یا کھجوریں ہیں تو ہمیں دے دو ہم اس کی قیمت ادا کریں گے‘‘
اس نے کہا ’’ واللہ! اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم آپ کی ضیافت میں ہر گز کمی نہ کرتے‘‘۔
اس دوران ہی سرکار دوعالم کی نگاہ پاک ایک نحیف سی بکری پر پڑی۔پوچھا ’’ معبد کی ماں! یہ بکری کیسی ہے؟‘‘
کہنے لگیں ’’ یہ بے چاری اپنی لاغری اور کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں کے ساتھ چرنے کے لیے نہیں جاسکی‘‘۔
سرکار نے پوچھا ’’ یہ کچھ دودھ دے سکتی ہے؟ ‘‘
اس نے کہا ’’ یہ کمزور ہے۔اگر آپ کو اس میں کچھ دودھ مل جائے تو ضرور دھولیں ‘‘۔ رسول کریم نے بکری کو طلب فرمایا۔ پھر اس پر ہاتھ پھیرا۔ اللہ کا نام لیا اور دعا فرمائی ’’ یا اللہ! اس عورت کی بکریوں میں برکت دے ‘‘۔ اللہ کا نام لے کر دودھ دوہنا شروع کیا۔ وہ کیا بابرکت لمحات ہوں گے۔جب بکری کی قسمت جاگ اٹھی۔وہ خوشی سے جْگالی کرنے لگی اور دودھ کی دھاریں اس کے تھنوں سے بہہ نکلیں۔
سرکار دوعالم نے ایک بڑا برتن منگوایا۔ یہاں تک کہ سب ساتھیوں نے سیرہو کر دودھ پیا، اْمِّ معبد کو بھی پلایا، حتیٰ کہ وہ بھی سیر ہوگئیں۔ آخر میں سرکارنے خود دودھ پیا اور فرمایا ’’لوگوں کو پلانے والا خود آخر میں پیتا ہے ‘‘ اس کے بعد دوبارہ آپ نے اس برتن کو دودھ سے بھر کے اْمِّ معبد کے حوالے کیا اور یہ فرما کر آگے روانہ ہوگئے ’’ یہ دودھ جب معبد کا باپ آئے تو اسے دینا‘‘۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ان کا شوہر ابو معبد اپنے ریوڑ کی بکریوں کو ہانکتے ہوئے خیمہ میں آپہنچا۔ دودھ سے بھرے ہوئے برتن کو دیکھا تو حیرت میں پڑگیا اور اْمِّ معبد سے دریافت کیا ’’ تمہارے پاس اتنا دودھ کہاں سے آیا ؟
وہ بولیں ’’ اللہ کی قسم ! ایک مبارک آدمی کا یہاں سے گزر ہواہے، آپ نے اس نحیف بکری کو دوہنا شروع کیا تو سارے مہمانوں نے سیر کر اس کا دودھ پیا ہے‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں