کپاس پیدا کرنے والے اضلاع میں ٹیکسٹائل انڈسٹری لگا کر غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے عملی اقذامات کئے جائیں ، راؤ محمد خالد

سیاسی و سماجی شخصیت راؤ محمد خالد نے کها هے که پاکستان کو بهتر مستقبل دینے کے لئے محب وطن پاکستانیوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا هوگا انہوں نے کہا کہ افغانستان 1979 سے حالت جنگ میں هے افغانستان کی کرنسی کی قدر پاکستانی کرنسی کے مقابله میں بڑھا کر کس کو فائده دیا جا رها هے انهوں نے پاکستان کے پالیسی سازوں سے اپیل کی کہ اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینٹ پنجاب کے راجپوت قبائل سے ہونا
چاہیئے. ایک سوال کے جواب میں انهوں نے کها که
صوبه جنوبی پنجاب ملتان کا دارلحکومت ملتان هونا چاهئے مختلف ادوار میں تاریخی شهر ملتان پنجاب اور سندھ کا دارلحکومت رها هے
انهوں نے کها که پاکستان میں تیزی سے بڑھتی هوئی آبادی کی وجه سے شهری سهولیات کی کمی, غذائی بحران, صاف پانی,تعلیم و صحت کی سهولیات کی کمی کا سامنا هے کم عمری کی شادی کی وجه سے لڑکیاں تعلیم کے حق سے محروم هوجاتی هیں اور صحت مند خاندان نهی جنم لیتا انهوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی که لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے انهوں نے کها که پاکستان میں پندره سے انتیس سال کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت کم تعلیم یافته اور بے روزگار هے اس طبقه آبادی کے لئے پالیسی سازی کی فوری ضرورت هے تاکه نوجوان نسل کی صلاحیت کو درست سمت دی جا سکے انهوں نے کها که پاکستان کے اربن سنٹرز میں گڈ گورننس کے لئے نیویارک, لندن اور پیرس کے میئر کی طرز پر اختیارات کراچی, لاهور, ملتان, پشاور, کوئٹه سمیت تمام شهروں کے میئر اور بلدیاتی اداروں کے سربراهوں کو دیئے جانے چاهیں انهوں نے کها که کپاس پیدا کرنے والے اضلاع میں ٹیکسٹائل انڈسٹری لگا کر غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے عملی اقذامات کئے جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں