طاقت کی بھوک حقیقت ہے

لاہور (سٹی نیوز) ہمارے سیاستدان اوران کی حرکتیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ کیا وہ واقعی ہماری پرواہ کرتے ہیں؟ طاقت کی بھوک حقیقت ہے۔ ہم نے یہ سنا بھی ہے، دیکھا بھی ہے اور اب اپنے ملک میں اس کے گواہ بھی بن رہے ہیں۔
اسی طاقت کے نشے میں گزشتہ روز ایک معصوم بچہ، جو کسی کا بیٹا، بھائی تھا اور اس سب سے بڑھ کرایک انسان تھا، موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس کا جرم کیا تھا؟ وہ ایک بی ایم ڈبلیو کے سامنے کھڑا تھا جس نے اسے کچل ڈالا اور ڈرائیور نے رکنا بھی گوارہ نہ کیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنے گھر کے کسی فرد کے ساتھ ایک ایسے شخص کی حمایت کیلئے سڑک پر آیا تھا جو اس بچے کو جانتا تک نہیں ہے۔
یہ خبر عام ہونے کے بعد نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’قیام پاکستان کے دوران بہت سے پاکستانیوں نے اپنی زندگیاں گنوائیں، یہ کوئی پہلی شہادت نہیں ہے۔‘‘ یہی سابق وزیراعظم ہیں جو اپنے ملک اوراس کے عوام کی پرواہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
لیکن اب ان کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں عوام اور بالخصوص ریلی کے دوران کچلے جانے والے اس بچے کی کتنی پرواہ ہے۔ یہ تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے اور ہر کوئی سابق وزیراعظم سے سوال کر رہا ہے کہ اس میں وہ ’’پرواہ‘‘ دکھا دیں جس کا آپ ذکر کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں