دشمنوں کو زیادہ شدت سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، صدر ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران امریکی افواج نے اس قدر شدت کے ساتھ دشمنوں کو نشانہ بنایا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں نائن الیون کی 18ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے طالبان حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد سے طالبان سے مذاکرات منسوخ کیے اور ان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ گزشتہ چار دن سے امریکی افواج نے ہمارے دشمنوں پر وہ کاری ضرب لگائی ہے جو اس سے قبل نہیں ہوا اور اب یہ عمل جاری رہے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم لڑائی نہیں چاہتے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے افغان طالبان کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا۔ اس ضمن میں ان کا اشارہ عراقی جزیرے قانوس کےبارے میں تھا جہاں داعش کے ٹھکانوں پر لگ بھگ 36 ہزار کلوگرام وزنی بم برسائے گئے تھے۔
واضح رہے کہ آج سے 18 برس چار مسافر ہوائی جہازوں کو اغوا کرکے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 3000 کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کی ذمے داری اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ پر عائد کی گئی تھی۔ بعد ازاں خود اسامہ بن لادن نے بھی ان کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا۔اس کے بعد 7 اکتوبر 2011 کو صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکی اور برطانوی افواج کی مدد سے افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں