ایک اور مالی سال گزر گیا، حکومت نے کیا کھویا کیا پایا؟

لاہور: (طارق حبیب، احمد ندیم، مہروز علی خان) تحریک انصاف کو حکومت ملی تو معاشی اعدادوشمار بہتر پوزیشن میں تھے، مگر موجودہ حکومت کے ابتدائی سالوں میں ہی یہ معاشی ترقی زوال پذیر ہوتی ہوئی منفی اعدادوشمار کے ساتھ نظر آنے لگی۔

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے بجٹ 21-2020 ایسے وقت لایا گیا جب دنیا بھر میں کورونا نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور عالمی معیشت کی بنیادیں اس وبا کی وجہ سے لرز رہی ہیں۔

عالمی ممالک اپنی معیشت کے بچانے کے لیے جنگی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے بجٹ دینا آسان نہیں تھا۔

معاشی ترقی کی شرح جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آغاز پر 2013ء میں 4.05 فیصد تھی، اسی حکومت کے اختتامی سال 2018ء میں 5.53 تک پہنچ چکی تھی اور جب یہاں سے تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو پہلے ہی سال 2018ء میں ترقی کی یہ شرح تنزلی کا شکار ہو کر 1.91 فیصد اور اگلے سال یعنی 2019ء میں مزید کم ہو کر صفر کے ہندسے کو پیچھے چھوڑتی ہوئی منفی 0.38 فیصد تک پہنچ گئی۔

اسی طرح صنعتی ترقی جو تحریک انصاف کے حکومت سنبھالتے وقت 4.61 فیصد تھی، پہلے ہی سال صفر کے ہندسے سے بھی نیچے یعنی منفی 2.27 فیصد اور 2019ء میں منفی 2.64 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

معاشی تباہی صرف درج بالا سطح تک ہی نہیں تھی بلکہ اس سے کوئی بھی شعبہ محفوظ نہ رہ سکا۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے اعدادوشمار 5.43 فیصد تھے۔ جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو 2018ء میں یہ نمبر منفی 0.66 فیصد اور 2019ء میں مزید تنزلی کے بعد منفی 5.56 فیصد تک پہنچ گیا۔

مہنگائی کی شرح جو موجودہ حکومت کے مسند اقتدار سنبھالتے وقت 3.92 فیصد تھی پہلے سال میں ہی 7.34 فیصد اور دوسرے سال میں 11.22 فیصد تک پہنچ گئی۔

کچھ ایسا ہی حال بیروزگاری کی شرح میں بھی نظر آیا۔ موجودہ حکومت جس نے اقتدار میں آتے ہی کروڑوں نوکریاں دینے کے دعوے کیے ہوئے تھے، بے روزگاری کی شرح میں کمی کے بجائے اس میں مزید اضافے کا باعث بنی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اختتام پر بے روزگاری کی جو شرح 5.70 فیصد تھی، وہ موجودہ حکومت کے پہلے سال 6.10 فیصد اور دوسرے سال 6.20 فیصد تک پہنچ گئی۔

معاشی اعشاریوں کا اگر تفصیلی جائزہ لیں تو صورتحال انتہائی گھمبیر نظر آتی ہے۔ ہم اس صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ ماضی کی حکومتوں نے ترقی کے اعشاریے کہاں چھوڑے تھے اور آنے والی حکومتوں نے انھیں کس حد تک سنبھالا۔

ذیل میں دیے گئے چارٹس میں عمومی تقابل پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ( ن) اور تحریک انصاف حکومتوں کے مابین کیا گیا ہے۔

حکومتی کارکردگی

وفاقی بجٹ برائے مالی سال 20-2019 اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اب وقت ہے لوگوں کی زندگی بدلنے کا، اداروں میں میرٹ لانے کا اور کرپشن ختم کرنے کا ۔

گزشتہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت نے جو اہداف مقرر کیے تھے ان میں بیرونی خسارے میں کمی ، کرنٹ اکاو ¿نٹ خسارہ 13 ارب ڈالر سے کم کرکے 6.5 ارب ڈالر تک لانا، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ، آزادانہ تجارتی معاہدوں کا فروغ اور سول و عسکری اخراجات میں مثالی کمی کے اہداف نمایاں تھے۔

اس کے علاوہ ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری، زراعی اور صنعتی ترقی کا حصول ، منی لانڈرنگ کا خاتمہ ،مہنگائی کی شرح میں کمی اور مجموعی طور پر معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا شامل تھا۔حکومت اپنے متعین اہداف کو حاصل کرنے میں کتنی کامیاب رہی اس کی تفصیلات درجہ ذیل ہیں۔

فی کس آمدن

2008-09ء میں پاکستان میں فی کس آمدن1026 ڈالر تھی جس میں سالانہ بتدریج اضافہ ہوتا گیااور گزشتہ حکومت کے آخری مالی سال میں فی کس آمدن 1652 ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ اس کے بعد کم ہونا شروع ہوئی۔ معاشی تنزلی اور پیسے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ فی کس آمدن میں کمی کی وجہ بنیں۔تحریک انصاف دور حکومت کے پہلے سال میں فی کس آمدن کم ہوکر 1455 ڈالر ہوگئی جبکہ مال سال2019-20 میں مزید کم ہو کر1355 ڈالر پر پہنچ گئی۔اگر ہمسایہ ممالک سے موازنہ کیا جائے تو 2008-09 بھارت کی فی کس آمدن 1049 ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کی 728 ڈالر تھی۔ 2008-09 کے مقابلے میں 2019-20 میں پاکستان کی فی کس آمدن 329 ڈالر بڑھی ہے اور بھارت کی فی کس آمدن 1123 ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کی1339 ڈالر بڑھی ہے۔2008-09 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدن پاکستان سے 298 ڈالر کم تھی جبکہ 2019-20 میں پاکستان سے 712 ڈالر زیادہ ہے۔

افراط زر

جنوری 2019 کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوااور اگست 2019 سے مارچ 2020 تک مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ میں رہی۔ کئی عوامل بشمول مضمر طلبی دباو ¿، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں تیزی ا?ئی۔رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 11.22 فیصد جبکہ گزشتہ مالی سال 7.34 فیصد رہی۔

بیروزگاری

پاکستان میں 2018 کے بعد بیروزگاری کی شرح ایک بار پھر بڑھی ہے۔ مالی سال 2013-14 میں پچھلے سال کے مقابلے بیروزگاری کی شرح 0.4 فیصد کم ہوکر 6 فیصد سے 5.6 فیصد پر آئی تھی جبکہ مالی سال 2018-19 میں پچھلے سال کے مقابلے 0.4 فیصد کے اضافے سے 5.7 فیصد سے 6.1 فیصد پر پہنچی تھی۔رواں سال 1 فیصد مزید اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

کم از کم اجرت

آج سے 12 سال پہلے مزدور کی کم از کم اجرت 6 ہزار روپے یا اس دور کے ریٹ کے حساب سے 86 ڈالر تھی جسے 4 سال بعد پیپلز پارٹی دور حکومت کے آخری سال میں 2 ہزار روپوں کا اضافہ کر کے 8 ہزارروپے کر دی گئی ،تاہم تب تک ڈالر اتنا مہنگا ہوا تھا کہ 4 سال میں مزدور کی کم از کم اجرت 2 ڈالر کم ہوکر 84 ڈالر رہ گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) دور کے پہلے مالی سال میں کم از کم اجرت 10 ہزار روپے مقرر کی گئی اور صنعتی و معاشی ترقی میں بہتری آنے کی وجہ سے اجرت 84 ڈالر سے 99 ڈالر ہوئی جبکہ آخری مالی سال میں اجرت بڑھا کر 15 ہزار روپے کر دی گئی۔ امریکی کرنسی کے حساب سے یہ اجرت 142 ڈالر بنتی ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے مالی سال میں کم از کم اجرت 15 ہزار روپے ہی برقرار رکھا تاہم روپے کی قدر گھٹنے کی وجہ سے کم از کم اجرت میں گزشتہ سال کے مقابلے 12 ڈالر کی کمی ہوئی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر رواں مالی سال کم از کم اجرت میں 2500 روپوں کا اضافہ کیا گیا اور ساڑھے 17 ہزارروپے کردی گئی البتہ روپے کی قدر میں نمایاں کمی کی وجہ سے اجرت میں مزید 13 ڈالر کی کمی ہوئی۔

ایف بی آر کا ٹیکس ہدف اور حصول

مالی سال 2019-20 کیلئے ٹیکس آمدن کا ہدف 5 ہزار 503 ارب روپے رکھا گیا تھا لیکن معاشی شرح نمو میں کمی اور ایف بی آر کے اپنے ماہانہ اہداف سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے سالانہ ہدف میں نظرثانی کی گئی اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے ہدف کم کرکے 5 ہزار 270 ارب کا ہدف تعین کیا گیا۔ معاشی حالات میں مسلسل ابتری کی وجہ سے سالانہ ہدف پر دوسری بار نظرثانی کر کے 48 سو ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا۔ جنوری کے بعد پہلے عالمی سطح پر اور پھر ملک میں کورونا کی وباءپھیلنے کی وجہ سے معاشی حالات مزید ابتر ہوگئے۔ ٹیکس آمدن کے سالانہ ہدف پر تیسری دفعہ بھی نظر ثانی کی گئی اور اصل ہدف سے 1 ہزار595 ارب روپے کم کر کے 3 ہزار 908 ارب روپے کا ہدف متعین کیا گیا۔ ایف بی آر نے مئی 2020 تک 3 ہزار 518 ارب روپے اکھٹا کیا ہے اور نظرثانی شدہ ہدف پورا کرنے کیلئے 390 ارب روپے مزید درکار ہیں۔

ادائیگیوں کا توازن

بیلنس آف پیمنٹ یعنی ادائیگیوں کے توازن میں گزشتہ دو سالوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2013-14 میں کرنٹ اکاو ¿نٹ خسارہ 3 ہزار 130 ملین ڈالر تھاجو کہ مسلم لیگ (ن) دور حکومت کے آخری مالی سال میں خسارہ 19 ہزار 195 ملین ڈالر کو پہنچا تھا۔ 2018-19 میں بیلنس آف پیمنٹ کا خسارہ کم ہوکر 13 ہزار 434 ملین ڈالر پر آگیااور رواں سال کے آخر تک 3 ہزارملین ڈالر تک پہنچنے کاتخمینہ لگایا گیا ہے۔ درآمدات میں نمایاں کمی ہونا اس خسارے میں کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔

سالانہ تجارتی خسارہ

حکومت مجموعی طور پر سالانہ تجارتی خسارہ کم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں تجارتی خسارہ16 ہزار 590 ملین ڈالر سے بڑھ کر 30 ہزار 903 ملین ڈالر تک پہنچ گیا تھا تاہم پچھلے دو سالوں میں اس میں کمی آئی ہے۔ مالی سال 2018-19 میں تجارتی خسارہ 27 ہزار 612 ملین ڈالر تھا جبکہ رواں مالی سال کےاپریل تک مزید کم ہوکر 16 ہزار 441 ملین ڈالر رہ گیا ہے۔

ملک کی کل برآمدات اور درآمدات کا تفریق اگر مثبت اشاریوں کی طرف بڑھے تو تجارتی خسارے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ دو سالوں میں تجارتی خسارے میں کمی آنے کی وجہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہے بلکہ درآمدات میں نمایاں کمی ہے۔ مجموعی طور پر ملکی درآمدات کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی کمی آئی ہے۔

معیشت پر قرضوں کا بوجھ

ملکی معیشت پر قرضوں کے بوجھ میں تواتر سے اضافہ ہورہا ہے تاہم موجودہ حکومت کے پہلے دو سالوں میں قرضے اکھٹا کرنے کی رفتار میں تیزی آئی اور ملک کے مجموعی قرضہ جات میں اس دوران تقریباً 13 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ جون 2008 میں پاکستان کا کل قرضہ 6 ہزار 691 ارب روپے تھا، جون 2013 میں 16 ہزار 339جبکہ جون 2018 میں 29 ہزار879 ارب روپے تک پہنچ گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں مجموعی قرضہ جات میں تقریباً ساڑھے 9 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا یعنی کہ تقریباً 2 ہزار ارب روپے سالانہ اضافہ ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور حکومت میں ملکی قرض میں تقریباً ساڑھے 13 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا یعنی کہ سالانہ تقریباً 2700 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے دوبڑھنے والے قرضے کاجائزہ لیا جائے تو سالانہ تقریباً ساڑھے 6 ہزار ارب کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔

گردشی قرضے

2008 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو گردشی قرضہ 106 ارب روپے تھا۔ جون 2013 تک اس میں 397 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ جون 2018 تک مزید 697 ارب روپے کے اضافے سے کل گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک جا پہنچا۔ گزشتہ دو سالوں میں گردشی قرضے مزید 700 ارب کے اضافے کے بعد 1900 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

سٹاک مارکیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کیلئے رواں سال مارچ کا مہینہ سب سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ پاکستان میں 26 فروری 2020 کو کورونا وائرس کا پہلامریض سامنے آمنے کے بعد KSE-100 میں 24.8 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی اور انڈکس 31 مارچ 2020 کو 29231.6 پر آ گرا۔ تاہم حکومت کے کورونا معاشی پیکج اور سٹیٹ بنک کے مانیٹیری پالیسی میں 525 بیسز پوانٹس کی کمی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں ریکوری دیکھنے کو ملی اور یکم جون 2020 کو KSE-100 انڈکس 34021 پر بند ہوا۔

روپے کی قدر

جون 2013 میں ڈالر کی قیمت 100 روپے تھی اور پانچ سال بعد جون 2018 میں اس کی قیمت میں صرف 15 روپے اضافہ ہوا تھا۔ اس کے بعدپاکستانی روپیہ کی قدر میں ایک سال میں تیس فیصد کمی ہوئی اور جون 2019 میں ڈالر 150 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اگلے ایک سال کے دوران ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوا اور مئی 2020 میں فی ڈالر 165 روپے تک جا پہنچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں