شہباز شریف کو وزیراعظم بننے کی آفر دی گئی لیکن انہوں نے ٹھکرا دی

اسلام آباد(سٹی نیوز )معروف اور سینئر صحافی حامد میر نے کہاہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور نوازشریف کے درمیان ماضی میں کافی ایشوز پر اختلاف رہا ہے لیکن اس وقت وہ ایک ہی پیج پر ہیں ،کچھ صحافی یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں لیکن اصل میں ایسا کچھ نہیں ہے اور وہ اس کیلئے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کر رہے ،چوہدری نثار عوامی سطح پر یہی اعلان کرتے ہیں کہ نوازشریف کے علاوہ کسی اور کو وزیراعظم قبول نہیں کریں گے۔
پارٹی میں اندرون خانہ وزیراعظم کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے لیکن ن لیگ عوامی سطح پر یہی تاثر دے رہی ہے کہ کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن کافی وزراکو یہ خدشہ تھا اور یقین بھی تھاکہ اس تحقیقات کا نتیجہ وزیراعظم کیخلاف آئے گا ،ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی کافی بڑی تعداد میں اپنی پارٹی لیڈر شپ سے ناراض ہیں ،وہ دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے اور جیسے ہی فیصلہ آئے گا تو ہوسکتاہے کہ وہ اراکین اسمبلی فوری اپنے فیصلہ نہ سنائیں لیکن پھر پارٹی کے اندر گروپس بننے کا خدشہ ہے اور پھر کوشش کی جائے گی اپنا وزیراعظم لایا جائے۔
ان کا کہناتھا کہ پارٹی کے اندرون خانہ متبادل وزیراعظم کی مختلف آپشنز کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے جن میں اسحاق ڈار ،خرم دستگیر ،احسن اقبال اور شہبازشریف کا نام شامل ہے۔ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم اور شہبازشریف کے درمیان جو تعلقات ہیں اس کے باعث شہبازشریف نوازشریف کی حمایت کے بغیر وزارت عظمیٰ کو کبھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیراعظم بننے کی آفر دی گئی لیکن انہوں نے ٹھکرا دی۔اسلام آباد(سٹی نیوز )معروف اور سینئر صحافی حامد میر نے کہاہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور نوازشریف کے درمیان ماضی میں کافی ایشوز پر اختلاف رہا ہے لیکن اس وقت وہ ایک ہی پیج پر ہیں ،کچھ صحافی یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں لیکن اصل میں ایسا کچھ نہیں ہے اور وہ اس کیلئے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کر رہے ،چوہدری نثار عوامی سطح پر یہی اعلان کرتے ہیں کہ نوازشریف کے علاوہ کسی اور کو وزیراعظم قبول نہیں کریں گے۔
پارٹی میں اندرون خانہ وزیراعظم کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے لیکن ن لیگ عوامی سطح پر یہی تاثر دے رہی ہے کہ کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن کافی وزراکو یہ خدشہ تھا اور یقین بھی تھاکہ اس تحقیقات کا نتیجہ وزیراعظم کیخلاف آئے گا ،ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی کافی بڑی تعداد میں اپنی پارٹی لیڈر شپ سے ناراض ہیں ،وہ دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے اور جیسے ہی فیصلہ آئے گا تو ہوسکتاہے کہ وہ اراکین اسمبلی فوری اپنے فیصلہ نہ سنائیں لیکن پھر پارٹی کے اندر گروپس بننے کا خدشہ ہے اور پھر کوشش کی جائے گی اپنا وزیراعظم لایا جائے۔
ان کا کہناتھا کہ پارٹی کے اندرون خانہ متبادل وزیراعظم کی مختلف آپشنز کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے جن میں اسحاق ڈار ،خرم دستگیر ،احسن اقبال اور شہبازشریف کا نام شامل ہے۔ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم اور شہبازشریف کے درمیان جو تعلقات ہیں اس کے باعث شہبازشریف نوازشریف کی حمایت کے بغیر وزارت عظمیٰ کو کبھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیراعظم بننے کی آفر دی گئی لیکن انہوں نے ٹھکرا دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں