سعودی عرب کی جانب سے یمن کی جنگ کا آغاز کرتے ہی برطانیہ میں اس کے خلاف ایک طوفان کھڑاہوگیا

لندن(ویب ڈیسک)سعودی عرب کی جانب سے یمن کی جنگ کا آغاز کرتے ہی برطانیہ میں اس کے خلاف ایک طوفان کھڑاہوگیا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسے اسلحے کی فروخت فوری بند کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اس احتجاج کا سب سے اہم پہلو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بناتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی رکوانا تھا۔ ہتھیاروں کی تجارت کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے حامیوں کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے لہٰذا اسے ہتھیاروں کی فروخت غیر قانونی عمل ہے۔ اسی موقف کے تحت عدالت میں برطانوی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا جس کا فیصلہ آگیا ہے، اور یہ فیصلہ برطانوی حکومت اور سعودی عرب دونوں کیلئے خوشخبری ثابت ہوا ہے۔
برطانوی عدالت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کرکے برطانوی حکومت کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کررہی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ’’شواہد سے ظاہر ہے کہ (برطانوی) وزیر خارجہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ (سعودی) اتحاد جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنارہا۔ سعودی عرب نے انسانی قانون کے اصولوں پر کاربند رہنے کیلئے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ مزید یہ کہ اتحاد پر عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔‘‘
دوسری جانب برطانوی حزب مخالف کی جماعتیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس فیصلے پر خوش نہیں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے یمن کے عوام کیلئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جبکہ بین الاقوامی ادارے آکسفیم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کرنے کیلئے واضح اخلاقی جواز موجود تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں