ڈی جی نیب نے کہا حکومت سے معاملات طے کر لیں: حمزہ کا الزام

لاہور: ن لیگی رہنما حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس بہت پرانا ہے، نیب اپنی کارروائیوں میں صرف شریف خاندان کو نشانہ بنا رہا ہے، اب میری دو بہنوں کو بھی طلب کر لیا۔ نیب کارروائیوں کے پیچھے محرک نیب اور نیازی گٹھ جوڑ ہے۔ انھوں‌ نے الزام عائد کیا کہ ڈی جی نیب نے کہا حکومت سے معاملات طے کر لیں طلب نہیں‌ کریں‌ گے. ‌
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پچھلے دس دنوں کی نیب کارروائی سے لگتا ہے کہ 20 کروڑ عوام میں صرف شریف خاندان ہی ہے، انکوائری 6 ماہ سے ہو رہی تھی تو اب ایسی کون سی تبدیلی آ گئی، اس تیزی کے پیچھے محرکات کیا ہیں، ایسے ہی نہیں کہتا کہ یہ نیب اور نیازی گٹھ جوڑ ہے، نیب نے میری دو بہنوں کو بھی طلب کر لیا۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نیب نے تفتیش کے دوران کہا تھا 16 اپریل کو دوبارہ بلائیں گے، اب 15 اپریل کو بھی طلب کر لیا ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ کارروائیوں میں صرف شریف خاندان کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے. انھوں نے کہا کہ حکومتی معاملات کا یہ حال ہے کہ غریب آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ معیشیت وینٹی لیٹر پر ہے، عوام مہنگائی اور عمران خان شریف خاندان کے بغض میں جل رہے ہیں۔
حمزہ شہباز نے نیب پر الزامات کی بوچھاڑ کر تے ہوئے کہا کہ ڈی جی نیب کا کہنا تھا معاملات حکومت سے طے کر لیں، مسائل رفع دفع کر دیں گے۔ جعلی ڈگری کی قرارداد واپس لے لیں آپ کو نہیں بلائیں گے۔ ہم پر بہت دباو ہے اس لئے بلاتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ علیمہ باجی کاحساب ہو تو نیا پاکستان مانیں گے، پشاور میں اربوں کی کرپشن ہوئی لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حمزہ شہباز نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس پاکستان علیم خان سے متعلق فواد چودھری کے بیان کا نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں