دامان کی عوام اور تحریک انصاف کی حکومت

خیبر پختون خواہ کے جنوبی اضلاع خصوصاڈیرہ اسماعیل خان کوہ سلمان کے دامن میں واقع وسیع رقبہ پر محیط علاقہ دامان جو قیام پاکستان کے بعدسے کسی مسیح کا منتظر ہے مگر دامان کے علاقے کی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ممبران قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اعلی حکومتی عہدوں پر فائزرہے دامان سے سیاست کا آغاز کرنے والے آج ملکی اور بین الااقوامی سطح پر سیاست کر رہے ہیں مگر دامان کی قسمت نہ بدل سکی جہاں آج 20ویں صدی میں بھی اکثر دیہاتوں میں انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے مکین ہیپاٹائٹس بی اور سی کے بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں مگر بد قسمتی سے پورے علاقہ دامان میں کوئی ڈھنگ کا ہسپتال بھی نہیں جہاں ان کا علاج کیا جا ئے اکثر اوقات مریض ایڑیاں رگڑرگڑ کر دنیا فانی سے بناعلاج کے رخصت ہوجاتے ہیں علاقہ کا زریعہ معاش کھیت باڑی پر مشتمل ہے مگر کوئی نہری نظام نہ ہونے کی وجہ سے بارانی پانی پر زمینیں سیراب کی جاتی ہیں اگر موسم پر بارشیں ہوجائے تو فصل کاشت کی جاتی اگر بارشیں نہ ہو تو زمینیںبنجر رہ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دامان کے مکین شدیدمعاشی بحران کا بھی شکار رہتے ہیں رواں سال بے موسمی بارشوں اور ژالہ باری سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ٹڈی دل کے تابڑ توڑ حملوں نے کسانوں کی پریشانی اور بھی بڑھا دیں مگر حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مدد نہ مل سکی ، علاقے میں تعلیم کے حوالے سے بھی کو خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس کی وجہ سے دور جدید میں بھی دامان کے معصوم بچے بکریاں چرانے پر مجبور ہیں اور تعلیم کی روشنی سے محروم ہورہے ہیں واضح رہے
آج سے پچاس سال قبل معروف سیاسی کارکن سردار حق نواز گنڈاپور نے اس وقت کے گورنر کے ایم اظہر کو شیشے کی بوتل میں ان بارشی جوہڑوں کا کیڑوں والا پانی پیش کیا اور کہا کہ یہاں انسان اور جانور دونوں ایک ساتھ ان جوہڑوں والا پانی پینے پر مجبور ہیں علاقہ دامان خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کا وہ حلقہ جہاں سے سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے الیکشن لڑ چکے ہیں 1970 کو جب ذولفقار علی بھٹو ڈیرہ اسماعیل خان حلقہ این اے 13 میں الیکشن کمپین کیلئے یہاں تشریف لائے تو اس وقت معروف سیاسی کارکن حق نواز گنڈاپور نے انہیں بھی دامان کی عوام کو درپیش مسئلہ سے آگاہ کیا اس کے بعد جب ذولفقار علی بھٹو کی حکومت آئی تو انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا اور سی آر بی سی کینال کی بنیاد رکھی جس سے دامان کا کافی رقبہ سیراب ہوا اور علاقے میں خوشحالی آئی مگر اب بھی وسیع رقبہ بنجر اور ویران پڑا ہوا ہے جس کے لیے لیفٹ کینال کی منظوری ہوچکی ہے مگر منصوبہ سرد خانے کے نذر ہو گیاہے

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج پچاس سال بعد بھی دامان کے مکینوں
کا گزارہ تالاب کے پانی سے چل رہا تھا
اور آج دور جدید میں بھی تالاب کا پانی استعمال کر رہے ہیں
حلقہ بندیاں ہوتی رہی حلقے کا نمبر تبدیل ہوتا گیا مگر علاقے کی قسمت تبدیل نہ ہوسکی
حلقہ دامان سے پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور ان دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوتا تھا مگر کامیابی حاصل کرنے کے بعد دونوں پارٹیاں علاقے کی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے دامان کی عوام نے
2018 کے عام انتخابات میں دونوں جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو منتخب کیا تاکہ علاقے کی تقدیر بدل جائے اب دیکھنا یہ ہے کہ دامان دھرتی سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی محمد یعقوب شیخ اور ممبر صوبائی اسمبلی سردار آغاز خان گنڈاپور دامان کی عوام کو کتنا ریلیف دینے میں کامیاب ہوتے ہیں امید ہے کہ دونوں ممبران عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے اور حلقے کی عوام کے امنگوں پر پورا اتریں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں