گاؤں کے چوہدری کی 13 سالہ معصوم بچی سے جنسی زیادتی، پھر اس کے ماں باپ کیساتھ کیا کیا گیا؟ انتہائی شرمناک واقعہ سامنے آگیا

فیصل آباد (ویب ڈیسک) فیصل آباد کے نواحی تھانہ گڑھ کے علاقہ میں بااثر چودھریوں نے غریب مزدور کی نوعمر بیٹی کو اغوا کرکے غائب کردیا, مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی عزت تار تار کردی اور مغویہ کے والدین کو گاﺅں سے نکال دیا۔

دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود گڑھ پولیس نہ ہی ملزموں کو گرفتار اور نہ ہی بچی کو بازیاب کررہی ہے۔ غریب والدین اعلیٰ پولیس حکام کے دفتروں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوگئے جبکہ نوعمر مغویہ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ تھانہ گڑھ کا ایس ایچ او اغوا کنندگان چوہدریوں کا حمایتی بن گیا ہے۔ ہمیں دھکے دے کر تھانہ سے باہر نکال دیا، غوا کاروں کو ایس ایچ او کہتا ہے کہ بچی کے ساتھ نکاح کرکے نکاح نامہ مجھے دیدو، میں بچی کے والدین سے خود نمٹ لوں گا اور ملزم پارٹی بھی ہمیں قتل کردینے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔

حاکم کوٹ تحصیل تاندلیانوالہ کی رہائشی ممتاز بی بی نے اپنے خاوند غلام مرسلین نے بتایا کہ میری تقریباً 13 سالہ بیٹی سعدیہ دو دسمبر 2017ءکو رفع حاجت کیلئے گھر سے باہر کھیتوں میں گئی جس کو چوہدری طارق، عامر، کنیز بی بی، محمد حسن، شہباز، رشید، صدام حسین کیری ڈبہ میں ڈال کر لے گئے اور ہماری بیٹی کو اغائب کررکھا ہے۔ اس نے بتایا کہ بیٹی کے اغوا بارے تھانہ گڑھ کے ایس ایچ او بشیر نول کو درخواست دی مگر ایس ایچ او نے نہ مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کیا اور نہ ہی میری بیٹی بازیاب کروائی گئی جس کے بعد میں نے سرکل ڈی ایس پی کو واقعہ کے بارے میں درخواست گزاری، جس پر ڈی ایس پی نے مقدمہ درج اور ملزموں کو گرفتار کرکے بچی بازیاب کروانے کے احکامات دئیے مگر ایس ایچ او گڑھ نے ڈی ایس پی کے حکم کو نظر انداز کردیا۔ ہم تھانہ جاتے ہیں تو صبح لے کر رات گئے تک ہمیں تھانہ میں بٹھایا جاتا ہے۔ ہماری کوئی بات نہیں سنی جاتی، بلکہ ہمیں الٹا مقدمات میں ملوث کرنے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ میری بیٹی کو زناءو حرام کاری کی نیت سے اغوا کی اگیا ہے۔ ملزم پارٹی قانونی کارروائی کرنے پر ہمیں دھمکیاں دے رہی ہے کہ تمہاری بیٹی کو قتل کرکے اس کی نعش تمہارے گھر کے دہلیز پر پھینک دیں گے، ہم اس سے شیطانی کھیل کھیل رہے ہیں اور اب اس کی عزت محفوظ نہیں رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ اب میں نے ملزموں کی گرفتاری اور بیٹی کی بازیابی کیلئے سی پی او فیصل آباد کو درخواست دے دی ہے جو کہ ایس پی صدر فیصل آباد کے نام مارک کردی گئی ہے اور انصاف کی فراہمی کیلئے عدالت کے دروازے پر دستک دے دی ہے اور میری بیٹی کی جان کو شدید خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں