ملتان:بستی نو بہادرپور کا رہائشی حاجی محمد اکرم انصاف کا منتظر

ملتان (فاروق ملک سے ) بستی نو بہادرپور کے رہائشی حاجی محمد اکرم نے سٹی نیوز کے دفتر آکر بتایا کے وہ 4 فروری کو اپنی بیوی صفوراں بی بی کو رسولی کے آپریشن کے لیے گلزارہسپتال نزد چونگی نمبر 6 بوسن روڈ لیکر گیا۔ جہاں ڈاکٹرمحمد سلیم وینس اور اس کی اہلیہ لیڈی ڈاکٹر نفیسہ سلیم اسے بغیر اجازت لیے آپریشن تھیٹر لیکر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد ڈاکٹر سلیم آیا اور کہا کہ تمہاری بیوی کا آپریشن تو ہوگیا ہے لیکن اسے فوری طور پرنشتراسپتال ایمرجنسی میں میں لیکر جانا پڑے گا اسی لمحے ہی ریسکیو1122 کی ایمبولینس بھی وہا ں پہنچ گئی جس کو ڈاکٹر نے میرے علم میں لائے بغیرپہلے ہی بلالیا تھا ۔ میں جب آپریشن تھیٹر پہنچا تو میری بیوی کی حالت غیر تھی اور وہ آخری سانسیں لے رہی تھی۔ 1122 کا عملہ میری بیوہ کو لیکر نشتر اسپتال پہنچا تو ڈاکٹر پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا اور جان بوجھ کر میری بیوی کا نام اور پتہ بھی غلط درج کروایا۔ نشتر اسپتال کے ڈاکٹروں نے کچھ دیر بعد بیوی کی موت کی تصدیق کردی۔ قل خوانی کے بعد جب نشتر اسپتال سے رپورٹ لینے پہنچا تو معلوم ہوا کہ میری بیوی کا نام صفوراں بی بی کے بجائے صغراں بی بی درج تھا اور گھر کا ایڈریس بھی غلط درج تھا۔ سائل نے ڈاکٹر کیخلاف 22فروری کو پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کو انصاف کی فراہمی اور ان درندہ صفت ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کی درخواست دی جس پر تاحال کوئی کارروائی نہ کی جاسکی ہے۔ ڈاکٹر مختلف ذرائع سے دباو ڈال رہا ہے اور ہراساں کر رہا ہے کہ میں درخواست واپس لے لوں۔سائل کو اب معلوم ہوا ہے کہ گلزار اسپتال میں ڈاکٹر سلیم اور ڈاکٹر نفیسہ سلیم کی نااہلی کو وجہ سے پہلے بھی متعدد خواتین کی موت واقع ہو چکی ہے مگر اپنے اثر ورسوخ اور دولت کی بدولت تاحال ان کیخلاف کوئی کارروائی نہ کی جاسکی ہے۔ متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیکر اس طرح کے درندہ صفت ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کی جائے تاکہ مزید انسانی زندگیوں کی جان محفوظ رہ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں