مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی، 19 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی

کراچی: (سٹی نیوز) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی ہے۔ شرح سود 19 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے، مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی گئی ہے جسکے بعد بنیادی شرح سود 8 فیصد ہو گئی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد کمی کے بعد شرح سود 19 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ مارچ 2020ء سے اب تک شرح سود میں 5 اعشاریہ 25 فیصد کمی کی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سبب معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، مارچ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق اپریل میں ملکی برآمدات میں 53 فیصد جبکہ درآمدات میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے سے مارچ سے اپریل کے دوران ٹیکس وصولیاں بھی 15 فیصد کم رہی۔

ماہرین کے مطابق 17 مارچ سے اب تک شرح سود میں 5 اعشاریہ 25 فیصد کمی ہوئی جس کے باعث حکومت کے قرضوں میں 1900 ارب روپے تک کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اپریل کی 16 تاریخ کو بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے شرح سود میں دو فیصد کمی کی تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال 28 جنوری کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر باقر رضا نے شرح سود کو 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے حکومت سے اپیل کی گئی تھی کہ شرح سود میں کمی کی جائے۔

اس دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مارچ کی 17 تاریخ کو شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد شرح سود 12.50 فیصد ہو گئی تھی۔

ٹھیک ایک ہفتے کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر شرح سود میں بڑی کمی کرتے ہوئے 1.5 فیصد کمی کی، 24 مارچ کو شرح سود 11 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک ماہ سے قبل کم عرصے کے دوران ایک مرتبہ پھر شرح سود میں دو فیصد کمی کر دی ہے جس کے بعد یہ شرح سنگل ڈیجیٹ 9 فیصد پر آ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی، اور تاجر رہنما اکثر حکومت سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ شرح سود کو کم کیا جائے تاکہ کاروبار چلانے میں مزید کمی آ سکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سٹیٹ بینک نے عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 1.5 فیصد رہیگی، آئندہ مالی سال کی ڈی پی میں 2 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہے گی، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 7 سے 9 فیصد رہیگی۔

سٹیٹ سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ مہگائی کی توقعات اور شرح نمو میں کمی کے سبب آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی سے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیروزگاری، مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گھریلوں صارفین اور کمپنیوں پر قوت خرید اور قرض کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ شرح سود میں کمی سمیت اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے دیگر اقدامات سے مدد ملے گی مثلاً رعایتی شرح سود پر کمپنیوں کو قرض کی فراہمی، بنیادی رقم کی ادائیگی میں ایک سال کی توسیع، قرض کی ادائیگی کی مدت 90دن سے بڑھا کر 180دن کرنا، کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئیے ہسپتالوں کو کم شرح سود پر قرض کی فراہمی کی گئی تاکہ یہ اس بحرانی صورتحال میں اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالیں۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ مقامی سطح پر سرگرمیوں کے اشاریوں مثلاً ریٹیل سیلز، کریڈٹ کارڈ کے اخراجات، سیمنٹ کی پیداوار، برآمدی آرڈرز، ٹیکس جمع کرنا و دیگر اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معیشت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہوئی ہے۔

تاہم اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو مارچ اور اپریل کے انڈیکس کے مطابق مہنگائی کے رجحان میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے دورانیے کی وجہ سے غیریقینی صورتحال انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور شرح نمو میں کمی کے سبب مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں معیشت کے مزید 1.5فیصد سکڑنے کا خطرہ ہے جس کے بعد مالی سال 2021 میں 2فیصد بہتری کا امکان ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 11-12فیصد جبکہ اگلے سال کم ہو کر 7-9فیصد رہنے کا امکان ہے۔

تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اشیا کی ترسیل نہ ہونے یا اس میں رکاوٹ کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا خدشہ ہے البتہ معیشت کی کمزور حالت کی وجہ سے یہ دوسرے مرحلے میں سنگین اثرات جاری کرنے سے قاصر رہیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد عالمی معیشت مزید ابتر صورتحال سے دوچار ہوئی اور گریٹ ڈپریشن کے بعد عالمی معیشت کے سب سے زیادہ تنزلی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف کی جاری رپورٹ کے مطابق یہ 2020 میں مزید 3فیصد سکڑ سکتی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سنگین اثرات 2009 کی عالمی کساد بازاری سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے جب معیشت عالمی مالیاتی بحران کے دوران 0.07سکڑ گئی تھی جبکہ مزید سنگین ترین نتائج کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک نے کہا کہ عالمی معاشی بحران کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں بھی عالمی سطح پر انتہائی کم ہو گئی ہیں اور ماہرین کے مطابق تیل کی قیموتں میں کمی کا یہ سسلہ برقرار رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں