لداخ:‌ چینی فوج کی فائرنگ سے بھارتی کرنل اور 2 سپاہی ہلاک

دلی: (ویب ڈیسک) چینی فوج نے لداخ میں سرحدی جھڑپ کے دوران ایک بھارتی کرنل اور 2 فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، واقعہ وادی گلوان میں گزشتہ شب پیش آیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر رونما ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی ہفتوں سے سرحد پر تناؤ جاری ہے اور فریقین کی جانب سے اضافے دستے سرحد پر تعینات کردیے گئے تھے۔

ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر جوہری طاقت کے حامل دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، یہاں باقاعدہ طور پر سرحد پر حد بندی نہیں کی گئی لیکن کئی دہائیوں سے یہاں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کہ بھارتی افواج نے پیر کو دو مرتبہ سرحد عبور کی اور چینی افواج پر حملہ کیا اور انہیں اشتعال دلایا جس کے بعد دونوں افواج کے درمیاں جھڑپیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے دہلی سے اس معاملے پر سخت احتجاج کیا ہے، ہم انڈیا سے درخواست کرتے ہیں وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے اور سرحد پر موجود افواج کو روکے۔ سرحد عبور نہ کریں، اشتعال مت دلائیں اور کوئی ایسی یک طرفہ کارروائی نہ کریں جو کہ بارڈر کی صورت حال کو پیچیدہ کرے۔

ترجمان بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی رات پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو ایک افسر اور دو سپاہیوں کا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ دونوں فریقین کی سینئر فوجی قیادت اس وقت موقع پر موجود ہے تاکہ صورتحال کے تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔

علاقے میں تعینات بھارتی افسر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہاں فائرنگ بالکل نہیں ہوئی اور مرنے والے بھارتی افسر کرنل تھے۔

افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئی فائرنگ نہیں کی گئی، کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا گیا، یہ پرتشدد جھڑپیں ہاتھوں سے ہوئیں۔

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ واقعہ تبت کے عین سامنے واقع لداخ کے علاقے میں وادی گلوان میں پیش آیا۔

واضح رہے کہ مئی سے اب تک جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جاری تناؤ میں ہزاروں فوجی دستے آمنے سامنے آ چکے ہیں جس پر ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی خطے میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

9مئی کو بھارتی اور چینی فوجی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ میں ہاتھا پائی ہوئی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس سے کئی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے ہی بیان میں کہا تھا کہ سفارتی اور فوجی ذرائع کے ذریعے موثر روابط کی بدولت حالیہ سرحدی تنازع حل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔

علاوہ ازیں امریکی جریدے کا کہنا ہےکہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی بلکہ پتھراؤ کے ذریعے لڑائی میں بھارتی فوجی مارے گئے، دونوں فوجوں میں گزشتہ ماہ بھی اسی طرح سنگ باری کے واقعات پیش آئے تھے جن میں دونوں جانب کئی اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے۔

واضح رہے کہ بھارت طویل عرصہ سے چینی سرحد کے قریب غیر قانونی شاہراہ تعمیر کرنے کی کوشش میں ہے، چین سکیورٹی خدشات کے سبب بھارت کو کئی بار متنبہ کر چکا ہے مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس کے سبب سرحدی جھڑپوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں