دنیا کا سرد ترین گاﺅں جہاں درجہ حرارت منفی 62 ڈگری پر جاپہنچا، یہاں لوگ زندہ کیسے رہتے ہیں؟ تفصیلات جان کر ہی آپ کو ٹھنڈ لگنے لگ جائے گی

اومایاکون(ویب ڈیسک) خوش آمدید! یہ ہے دنیا کی سرد ترین انسانی بستی اومایاکون، جہاں جنوری کے مہینے میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 سینٹی گریڈ رہتا ہے لیکن منفی 62 سینٹی گریڈ کی سردی بھی یہاں کے باسیوں کے لئے کوئی انہونی بات نہیں۔ روس میں سائبیریا کے برف زار کا یہ دور دراز گاﺅں دنیا کا سرد ترین مقام ہے جہاں انسان بستے ہیں۔ یہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم درجہ حرارت منفی 59 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے یہاں کم از کم درجہ حرارت منفی 67 سینٹی گریڈ تک بھی جاچکا ہے۔
سائبیرین ٹائمز کے مطابق اس بار درجہ حرارت کی پیمائش کے لئے اومایا کون مارکیٹ میں ایک ڈیجیٹل تھرمامیٹر لگایا گیا تھا لیکن جب ٹمپریچر منفی 62 سینٹی گریڈ تک پہنچا تو یہ ناکارہ ہوگیا۔ اس بستی کے جفاکش رہائشیوں کی کل تعداد تقریباً 500 ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں اس وقت آبادکاری کا آغاز ہوا جب مقامی جانور رینڈیئر کے چرواہے یہاں موجود گرم پانی کے ایک چشمے سے اپنے ریوڑوں کو پانی پلانے کے لئے رکنے لگے۔ اسی چشمے کی نسبت سے اس بستی کا نام اومایا کون (ناجمنے والا پانی) ہے کیونکہ یہاں یہ چشمہ ہی واحد چیز ہے جو سردی کے موسم میں جمتا نہیں باقی ہر شے منجمد ہوجاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں