پاناما کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے قطری خطوط کو بوگس اور جعلی قرار دیدیا

اسلام آباد (سٹی نیوز ) پاناما کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے قطری خطوط کو بوگس اور جعلی قرار دیدیا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پاناما کیس کی پہلی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا قطری خطوط بوگس ہیں یا کہانی خود ساختہ ہے؟جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ میرے حساب سے دونوں چیزیں ہی خود ساختہ ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ ہم نے قانونی حدود کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ہر چیز صاف شفاف ہونی چاہیے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حدیبہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔نااہلیت کا فیصلہ اکثریتی نہیں تھا۔قانونی پیرا میٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
نعیم بخاری نے موقف اپنایا کہ حسن نوا ز کہتے ہیں کاروبار کیلئے پیسہ حسین نواز نے دیا ، حسن نواز کی کمپنیاں خسارے میں تھیں۔ حسن نواز کے نام پر برطانیہ میں آٹھ کمپنیاں رجسٹر ہیں۔حسن نواز کے پاس اراضی کے کاروبار کیلئے مالی ذرائع نہیں تھے۔جے آئی ٹی نے بھی کہا حسن نواز کے پاس فنڈز نہیں تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں